خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 700
خطبات طاہر جلد 16 700 خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1997ء گی اور ان کی کشفی حالت نہایت صاف کر دی جائے گی۔کشفی حالت کے صاف کئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر لوگ اونگھ کی حالت میں جو محسوس کرتے ہیں اسے کشف سمجھ لیتے ہیں اور ایسا تجربہ بارہا ہوا ہے اور ایسے لوگ پھر ٹھوکر کھا کر بہت دور بھی نکل جاتے ہیں کہ وہ اپنے نفس کے خیالات کو جو اونگھ کی حالت میں بعض دفعہ زبان پر بھی جاری ہو جاتے ہیں، بعض دفعہ تصویری صورت میں بھی ظاہر ہوتے ہیں ان کو خدا کا کلام سمجھ کر وہ اس پراتنا تکبر شروع کر دیتے ہیں کہ اگر انہیں سمجھایا جائے کہ خدا ایسے لغو کلام نہیں کیا کرتا تمہارا ہم ہے کہ یہ خدا نے تمہیں کہا ہے۔وہ انکار کر دیں گے اور کہیں گے نہیں ہم جانتے ہیں خدا نے ہم سے کلام کیا ہے لیکن وہ صاف کلام نہیں ہوتا۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ باتیں جو وہ بیان کرتے ہیں وہ کبھی بھی پوری نہیں ہوتیں۔خدا کا کلام اور وہ دنیا میں پورا نہ ہو، خدا کا کلام جو ایسا ابہام رکھتا ہو کہ کچھ سمجھ میں نہ آئے کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے نفس کی بڑائی کا ایک نشان ہے۔وہ نشان سمجھتے رہیں مگر اتنے ہی رہتے ہیں جتنے پہلے دن تھے بلکہ بعض دفعہ آخری عمر میں اور بھی چھوٹے ہو جاتے ہیں۔کوئی ان کے کلام کو خدا کا کلام نہیں سمجھتا۔وہ کلام خود نہیں بولتا، اس کے اندر طاقت نہیں کہ فرقان کے طور پر دنیا کو دکھا سکے کہ یہ خدا کا کلام ہے۔پس جن کو روشنی ملتی ہے ان کی کشفی حالت نہایت صفا کی جائے گی اور ان کے کلام اور کام میں تاثیر رکھی جائے گی اور ان کے ایمان نہایت مضبوط کئے جائیں گے اور پھر فرمایا کہ خدا ان میں اور ان کے غیر میں ایک فرق بین رکھ دے گا۔“ د یعنی بمقابل ان کے باریک معارف کے جوان کو دئے جائیں گے اور بمقابل ان کے کرامات اور خوارق کے جو ان کو عطا ہوں گی دوسری تمام قو میں عاجز رہیں گی۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قدیم سے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوتا چلا آتا ہے اور اس زمانے میں ہم خود اس کے شاہد رؤیت ہیں۔شاہد رؤیت بہت مزیدار اور ایک نئی ترکیب ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں Coin کی ہے یعنی اس کو خود بنایا ہے۔رؤیت ایک اور چیز ہے کہ کسی چیز کو دیکھ لینا لیکن شاہد رؤیت“ کا مطلب یہ ہے کہ بعینہ اس رؤیت کے سامنے کھڑے ہوں اور یہ گواہی دے سکیں کہ جیسے واقعہ یہ