خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 699 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 699

خطبات طاہر جلد 16 699 خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1997ء کرتی ہے۔فرمایا یہ سب مجھے عنایت کیا ہے۔اب اس کی تفصیل میں فرماتے ہیں کہ: اور ترجمہ ان آیات کا یہ ہے کہ جو لوگ سچے دل سے قرآن شریف پر ایمان لائیں گے (اور اس پر عمل کرتے ہیں ان کو یہ یہ نشان جن کا ذکر ہے ان ان صورتوں میں دکھائے جاتے ہیں۔) ان کو مبشر خوا ہیں اور الہام دئے جائیں گے یعنی بکثرت دئے جائیں گے ورنہ شاذ و نادر کے طور پر کسی دوسرے کو بھی سچی خواب آسکتی ہے مگر ایک قطرے کو ایک دریا کے ساتھ کچھ نسبت نہیں اور ایک پیسہ کو ایک خزانے سے کچھ مشابہت نہیں اور پھر فرمایا کہ کامل پیروی کرنے والے کی روح القدس سے تائید کی جائے گی یعنی ان کے فہم اور عقل کو غیب سے ایک روشنی ملے گی اور ان کی کشفی حالت نہایت صفا کی جائے گی اور ان کے کلام اور کام میں تاثیر رکھی جائے گی اور ان کے ایمان نہایت مضبوط کئے جائیں گے اور پھر فرمایا کہ خدا ان میں اور ان کے غیر میں ایک فرق بین رکھ دے گا۔“ جو پہلے میں نے روح القدس کی علامتوں میں سے ایک بیان کی ہے وہ اگر چہ یہاں بیان نہیں ہوئی مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دوسرے کلام سے واضح طور پر وہی روح القدس کی تعریف فرمائی گئی ہے جو میں نے آپ کے سامنے رکھی تھی اور چونکہ یہ باتیں آپ نے سننی تھیں، جو بات نہیں سنی تھی وہ میں نے اس مضمون میں داخل کر دی ہے کہ روح القدس کی ایک واضح علامت دیکھنے والا یہ محسوس کرے گا کہ روح القدس پھر چھوڑے گی نہیں۔اور یہ باتیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائی ہیں یہ ہیں فہم اور عقل کو غیب سے ایک روشنی ملے گی۔عام طور پر ایک انسان بظاہر دنیا میں بے وقوف دکھائی دیتا ہے لیکن جب وہ تقویٰ میں ترقی کرتا ہے تو اسے روح القدس ایک ایسی عقل عطا فرماتی ہے کہ سادہ دیکھنے میں بالکل سادہ انسان ایسا ایسا کلام کرتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے اور ایسے کلام کرنے والے میں نے احمدیوں میں بھی بہت دیکھے ہیں۔ان پڑھ لوگ، زمیندار لوگ، بظاہر ان کو دنیا کے مسائل کا علم نہیں مگر تقویٰ کی وجہ سے اور روح القدس کی وجہ سے ان کا دماغ روشن ہو چکا ہوتا ہے۔وہ جب بھی بات کرتے ہیں گہری فراست کی بات کرتے ہیں۔فرمایا و عقل کو غیب سے ایک روشنی ملے