خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 681 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 681

خطبات طاہر جلد 16 681 خطبہ جمعہ 12 ستمبر 1997ء سے واپسی کا وعدہ ہو ہی نہیں سکتا اور جو بعد میں واقعات رونما ہوئے ہیں وہ خود اپنی ذات میں ایک حیرت انگیز اعجاز ہیں۔یہ سب لوگ ایک ایسے طیارے کے ذریعے نکلے جس کا میں ذکر کر چکا ہوں کہ لطف الرحمن صاحب نے جو ساہیوال کے ملک عطاء الرحمن صاحب کے صاحبزادے ہیں، انہوں نے اس کا انتظام کیا تھا۔یہ بوئنگ کا ایک طیارہ تھا ، چھوٹا بوئنگ جو وہاں پہنچا اور اس وقت تک سارے افریقہ کے ملکوں کی طرف سے اتنا شور بپا ہو چکا تھا کہ حکومت گیمبیا ان کو زبر دستی روکنے کی اہل نہیں رہی تھی۔کم سے کم جو دعوے کر رہے تھے کہ ہماری طرف سے ان کو کوئی خطرہ نہیں ہے وہ اس کے خلاف بات ایسی نہیں کر سکتے تھے کہ اس سے سب دنیا میں شور پڑتا لیکن شرارت انہوں نے کرنی تھی اور کی اور وہ شرارت یہ تھی کہ جو بوئنگ کے مالک ہیں وہ خود ساتھ گئے تھے اور مالک سے زیادہ اپنے جہاز کا در دکسی اور کو نہیں ہوا کرتا۔اس مالک نے ہمیں اطلاع دی ہے کہ اس وقت گیمبیا کے دو چوٹی کے C۔I۔D کے افسر میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ یہ سارے Terrorist ہیں جن کو تم لے جا رہے ہو اور پھر نہ کہنا کہ ہم نے تمہیں متنبہ نہیں کیا۔مالک خود جس کو اپنے جہاز کا خطرہ تھا، Terrorist کے نام سے ہی ہوائی جہاز والوں کی جان نکلتی ہے، اس نے خود یہ بیان دیا ہے کہ اس کی بات کا میں نے اس لئے اثر نہیں قبول کیا کہ جن لوگوں کو میں نے دیکھا تھا وہ ایسے شریف لوگ تھے کہ ساری زندگی میں نے اتنے شریف لوگ نہیں دیکھے۔کسی تہذیب اور تمدن اور شرافت اور حیا کے ساتھ وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور سفر کے لئے تیاری کر رہے تھے۔اس نے کہا میرے دل میں خدا نے مضبوطی سے ڈال دیا یہ جھوٹ ہے۔جو کچھ بھی ہو میں لازماً ان کو لے کے جاؤں گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ ان کی کوشش پہلے قدم پر نا کام رہی۔دوسرے قدم پر جب یہ آئیوری کوسٹ پہنچے ہیں تو آپ کو پتا ہے دو دن تک ان کو رو کے رکھا گیا یعنی جمعہ کی صبح تک یہ لوگ ایئر پورٹ پر روکے ہوئے تھے اور ہماری طرف سے وہاں کے جتنے افسروں سے تعلق تھا، جتنے بااثر لوگوں سے تعلق تھا ان میں سے بعض آئیوری کوسٹ کے احمدی بھی تھے جو بڑے بارسوخ اور با اثر لوگ ہیں انہوں نے ہر طرح کوشش کی مگر ایئر پورٹ کے نمائندوں نے کہا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا ان کو لازماً انتظار کرنا پڑے گا۔ہم مجبور ہیں ہم ان کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔سارے حیران تھے کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔اب دیکھئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا جوابی توڑ