خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 677 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 677

خطبات طاہر جلد 16 677 خطبہ جمعہ 12 ستمبر 1997ء وو کے گھسے پٹے الزامات۔”مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا نبی ہے دعوی نبوت جھوٹا ہے۔پاکستان کی طرح احمدیوں کو یہاں بھی غیر مسلم قرار دیا جائے۔مسلمانوں کو احمدیوں کے فتنے سے بچایا جائے“۔مرزا غلام احمد نے عیسی کی توہین کی اور ان کی نانیوں دادیوں کو زنا کار قرار دیا۔وہی الزام دوسری جگہ ان لفظوں میں موجود ہے غلط طریق پر وفات مسیح ثابت کرنے کی کوشش کی۔ثناء اللہ امرتسری کے مباہلے کے نتیجے میں ہلاک ہوا۔نعوذ باللہ من ذالک ” بیت الخلاء میں وفات ہوئی اور یہ جو بیت الخلاء والا الزام ہے یہ بارہا آزمایا جا چکا ہے۔ابھی حال ہی میں بعض مولویوں کے متعلق یہ اطلاع ملی ہے کہ یہی الزام دہراتے دہراتے ٹی میں مرے اور نہایت گندی حالت میں وہاں پائے گئے۔یہ واقعہ وہ ہے جس کی تکرار اس کثرت سے ہے کہ ایک کتاب کا پورا باب ان مثالوں سے بھرا جاسکتا ہے کہ جب بھی کسی مولوی نے حد سے زیادہ بکواس کی ہے اس معاملے میں خدا تعالیٰ نے اس کو اسی طرح ٹی میں ذلت کی موت مارا ہے یہاں تک کہ بد بو کی وجہ سے لوگ اس کے قریب تک نہیں پھٹکتے تھے، یہاں تک کہ سونڈیاں ان کے جسم پر قبضہ کر چکی تھیں۔یہ پہلے بھی میں جلسے کی تقریر میں اشارہ بیان کر چکا ہوں پھر بھی موقع ملے گا تو بتاؤں گا لیکن اس نے اس الزام کو بھی دہرایا ہے اور ساتھ ہی کہتا ہے کہ احمدی مجھے قتل کرنے کی کوشش کریں گے، میں مرا تو میری موت شہید کی ہوگی۔پھر احمدی سابق حکومت جوارا کی اس ملک میں پیداوار ہیں اور اسی دور میں مضبوط ہوئے۔مسلمان علاج کی خاطر ہسپتالوں میں نہ جائیں۔مسلمان اپنے بچوں کو احمد یہ سکولوں میں نہ بھجوائیں۔پکے مسلمان ضیاء الحق صدر پاکستان نے احمدیوں کی اذانیں بند کروادیں، مساجد منہدم کروادیں اور کلمہ مٹادیا آگے یہ بیان نہیں کیا پھر خدا نے اس سے کیا سلوک کیا اور کیسے ہلاک کیا۔پھر وہ کہتا رہا ضیاء الحق کے مرنے کے ذمہ دار احمدی ہیں۔انہوں نے مروایا ہے۔احمدی ہمارے بہترین افراد کو احمدیت میں داخل کر رہے ہیں۔اب یہ اقرار واقعی ہے جو ہمیشہ سے ہوتا چلا آیا ہے۔کیسا خدا نے اس کے منہ سے اس دوران اقرار کروا دیا اور اپنے بدترین ہونے کا اقرار بھی اس میں شامل ہے۔جو ہمارے اچھے لوگ تھے وہ تو احمدی لے گئے اور پھر آخر پہ کہا ” مباہلہ کا طریق ٹھیک نہیں ہے میدان میں آکر سامنے مباہلہ کریں۔جب یہ بھی منظور کر لیا گیا تو پھر اس شخص نے آخر کھلم کھلا ریڈیو پر اور غالبا ریڈیو ہی پر وہ اپنی تقریر کی جس میں اس نے مباہلے کا اقرار کیا اور کہا کہ میں اب