خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 671
خطبات طاہر جلد 16 671 خطبہ جمعہ 5 ستمبر 1997ء کا ذکر میں آئندہ خطبہ میں انشاء اللہ کروں گا۔جس کی وجہ سے مجھے یقین تھا اور میں نے صبح ہمارے ماجد صاحب جو اس وقت وکیل التبشیر ہیں ان کو بتادیا کہ اب میری فکر دور ہوگئی ہے۔ترسوں کی خواب تھی بڑی واضح خواب ہے اور بڑی خوشخبری ہے اس میں۔میں نے کہا اب ہمیں کسی کینیڈا کی ضرورت نہیں کسی اور ملک کی مدد کی ضرورت نہیں سب کو چھوڑ دو۔انہوں نے لازماً عزت کے ساتھ نکلنا ہے اور عزت کے ساتھ واپس بھی آتا ہے انشاء اللہ۔یہ رویا بعض اور تفاصیل کے ساتھ میں انشاء اللہ اگلے جمعہ میں آپ کو سناؤں گا لیکن ہوا یہ کہ آج صبح تک باوجود اس کے کہ یہ وہاں آئیوری کوسٹ پہنچ چکے تھے دورا تیں ان کو ایئر پورٹ پر بسر کرنی پڑیں اور وجہ یہ تھی کہ وہ حیران تھے کہ ان لوگوں کو چارٹرڈ جہاز کیسے مل گیا اور عموماً چارٹرڈ جہاز کے ذریعے جو فساد پیدا کرنے والے اور فتنہ پرداز لوگ ہیں وہ بھی اسی طرح بیچ میں داخل ہو کے پہنچا کرتے ہیں۔جو وزیر متعلق تھے ان کو جماعت کی تفصیل کا علم نہیں تھا لیکن اللہ کی شان ہے کہ وہاں کے مذہبی امور کے وزیر جماعت کو جانتے تھے۔اب ایک مذہبی امور کا وزیر خباثت کر رہا ہے اور ایک دوسرا اس کا توڑ کر رہا ہے انہوں نے صدر سے ملاقات کی اور ایم۔ایم۔احمد کا بھی میں ممنون ہوں کہ انہوں نے ایک فیکس صدر کے نام لکھی تھی کیونکہ یونائیٹڈ نیشنز میں ان کو وہ جانتے تھے مگر دراصل یہ وزیر صاحب تھے جنہوں نے خود ملاقات کی اور ان کو بتایا کہ یہ شرارت ہو رہی ہے اور یہ مع یہ معصوم لوگ ہیں جو ایئر پورٹ پر بیٹھے ہوئے ہیں ان کے متعلق فوری کارروائی ہونی چاہئے۔چنانچہ صدر نے فوری طور پر ان کو وزیر خارجہ کے پاس بھجوایا اور کہا کہ اس کو جا کے فوراً سمجھاؤ اور بتاؤ کہ ان کو پوری طرح اسی طرح دو مہینے کے ویزہ کے ساتھ عزت کے ساتھ ملک میں داخل کیا جائے چنانچہ آج صبح وزیر خارجہ نے وقت دیا ہمارے وفد کو کہ وہ چٹھی لے کے میرے پاس آؤ اور ان کو ہدایت مل چکی تھی کہ میں نے کیا کارروائی کرنی ہے چنانچہ آج صبح وہ چٹھی لے کر وہاں پہنچے اور اسی وقت خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ عزت کے ساتھ بسیں وہاں پہنچیں اور ان کو حفاظت کے ساتھ ایئر پورٹ سے نکال کر آئیوری کوسٹ کی مہمانی یعنی میز بانوں کے سپرد کر دیا گیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ سارا معاملہ اپنے اختتام کو عزت کے ساتھ پہنچا ہے۔اس ضمن میں میں ذکر کرنا چاہتا ہوں کو نا صاحب ہمارے ایک دوست ہیں بہت پیارے