خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 647
خطبات طاہر جلد 16 647 خطبه جمعه 29 راگست 1997ء پر قائم ہے تم یہ خیال نہیں کر سکتے کہ خدا کے بنائے ہوئے ظاہری قانون سے تم بھاگ سکتے ہو اور جب بھاگتے ہو یعنی اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہو تو خوف الہی ہے گویا کہ جو تم پر طاری ہو جاتا ہے لیکن وہ مادی دنیا کا خوف ہے۔تم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وہ قادر مطلق خدا روحانی دنیا کا بھی خدا ہے اور روحانی دنیا کو بھی اس نے اسی طرح قوانین کے تابع پیدا کیا ہے اور وہ قوانین اسی طرح لاز ما اثر دکھاتے ہیں جس طرح دنیا کے مادی قوانین اور مادی نقصان دہ جانور ، اگر آپ غلط استعمال کریں گے تو اپنا اثر دکھائیں گے۔یہ خوف الہی کی حقیقت ہے جس سے اکثر دنیا نا واقف ہے۔جانور سے ڈرتے ہیں، کتے سے ڈریں گے، بلی سے ڈریں گے، ہمارے ہاں کلاس میں ایک موٹا بچہ ہے وہ جانور کے نام سے ڈرتا ہے مگر خوف الہی کی وجہ سے نہیں۔اس کے دل میں ایک خوف بیٹھ گیا ہے بس۔مگر جانور کی یہ معرفت اس کو حاصل ہے کہ وہ نقصان بھی پہنچا سکتا ہے، اتنا پتا ہے اور جانور کے قریب تک نہیں پھٹکتا۔تو حقیقت یہ ہے کہ اگر گناہ کی ایسی ہی حقیقت ہو جیسے موٹے بچے کو حاصل ہے تو آپ بھی اسی طرح ڈریں گے اور کا نہیں گے اور تھر تھرائیں گے اگر گناہ کا نام بھی لیا جائے مگر معرفت نہیں۔پس خوف الہی کی حقیقت کو سمجھیں۔انسان یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا، گناہ ہٹ جائیں گے سب کچھ ٹھیک ہے۔مگر سانپ کے منہ میں کیوں نہیں انسان ہاتھ ڈال دیتا، ایک خوفناک کتے کو کیوں نہیں بھڑکا تا کہ اس پر حملہ آور ہو۔یہ کیوں نہیں سوچتا کہ خدا تعالیٰ معاف کر سکتا ہے معاف کر دے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک طبعی قانون کی طرف اشارہ کر کے خدا کے خوف کی حقیقت آپ کو سمجھا رہے ہیں کہ گناہ جب سرزد ہو وہ اسی وقت اپنا اثر دکھاتا ہے اور اس کے اثر کو آپ ٹال نہیں سکتے۔جو بخشش کا مضمون ہے وہ بعد کا مضمون ہے۔وہ آخرت میں جو اس کی سزائیں ملنی ہیں ان کے متعلق مضمون ہے اور اس دنیا میں بھی کسی حد تک یہ چلتا ہے۔مگر یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کو سانپ کے منہ میں انگلی ڈالنے سے نقصان تو پہنچ گیا ہو مگر ساتھ تریاق بھی مہیا ہو جائے ،ساتھ شفا کا ذریعہ بھی میسر آجائے۔یہ ذریعہ جو ہے یہ بخشش ہے لیکن کون ہے جو روز سانپوں کے منہ میں انگلی دے کر مادی اطباء سے بخشش طلب کرتا رہے۔کون ہے جو چوٹیں کھائے اور اپنا سر دیواروں سے پٹکائے اور پھر ڈاکٹر کے پاس بھاگا بھاگا جائے۔یہ جو بعد میں ڈاکٹر کے پاس جانا ہے یہ بخشش کا مضمون ہے یعنی گناہ کا بداثر ایک دفعہ تو ضرور ہوگا۔یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ گناہ سرزد ہو اور اس کا بداثر ظاہر نہ ہو کیونکہ قانون قدرت میں