خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 635 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 635

خطبات طاہر جلد 16 635 خطبه جمعه 22 راگست 1997ء تہجد کے متعلق میں نے اکثر دیکھا ہے کہ بعض لوگ تہجد کو اپنی دنیاوی خواہشوں یا اپنے دوستوں کو اپنی دعائیں دکھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔واویلا مچادیتے ہیں ، روتے ہیں، پیٹتے ہیں اے خدا ہمیں یہ بھی دے ، وہ بھی دے، فلاں دے، فلاں دے۔اللہ تعالیٰ دے بھی دیتا ہوگا اس سے تو انکار نہیں۔مگر امر واقعہ یہ ہے کہ فَتَهَجَّدُ بِہ کا یہ معنی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمایا ہے یہ نفس کی درستی کا معنی ہے۔جب خدا کے حضور کھڑے ہوتے ہیں تو اس وقت اپنے آپ کو ٹولا کریں۔اپنے نفس کی باریک چھپی ہوئی بدیوں کو دیکھیں اور ان کے خلاف جہاد کریں۔تہجد اس محنت کو کہتے ہیں جو انسان کے نفس کی حالت کو بہتر کرتا ہے۔نَافِلَةً لَّكَ اسی لئے فرمایا عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا۔یہاں غیروں کی بات ہی نہیں ہو رہی۔یہ نہیں فرمایا کہ تمہاری تہجد کی دعائیں قبول ہو کے تم لوگوں کی نظر میں ولی بن جاؤ گے اور لوگ تمہیں دعاؤں کے لئے کہا کریں گے۔کئی لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں۔ہوسکتا ہے خدا ان کی دعائیں قبول کرتا ہو۔ہو سکتا ہے محض وہم ہو۔مگر تہجد کا مقصد یہ نہیں ہے جس کے لئے وہ کھڑے ہوتے ہیں۔تہجد کا مقصد یہ ہے کہ انسان تہجد پڑھنے والا خود مقام محمود تک جا پہنچے اور مقام محمود اس وقت نصیب ہوتا ہے جب بدیوں سے خالی ہو کر حمد سے پر ہو۔محمود کا مطلب ہی یہ ہے یعنی ممکن ہے کہ اگر تم تہجد صحیح طریقے سے ادا کرو اور اس پہ محنت کروتو اللہ تعالیٰ تمہارے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرے اور تمہارا سفر خدا کی طرف شروع ہو جائے یہاں تک کہ تم مقام محمود تک پہنچو جس تک خدا پہنچائے گا۔عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا۔ایک معنی تو آنحضرت ﷺ کے لئے خاص ہے وہ میں پہلے کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت کے ہر فرد پر اس معنی کو عام کر کے دکھا رہے ہیں۔فرمایا راتوں کو اٹھو اور تہجد اپنی بدیوں سے پاک ہونے کے لئے کرو اور ہر بدی جو دور ہوگی یا درکھو اللہ اس بدی کی بجائے اس کو حد سے بھر دے گا اور جب خداحمد سے بھرتا ہے اسے مقام محمود کہا جاتا ہے وہ مقام پھر دوسروں کو بھی دکھائی دیتا ہے اور وہ ایک سچا مقام ہے کیونکہ جس مقام کو خدا محمود سمجھے اور محمود دیکھے اگر دنیا بھی اس کو محمود سمجھے اور محمود دیکھے تو اس میں انسان کے لئے کوئی خطرہ نہیں کہ جسے خدا کی نظر اچھا قرار دے دے وہ محفوظ ہے اور امن میں آجاتا ہے۔