خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 632 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 632

خطبات طاہر جلد 16 632 خطبہ جمعہ 22 راگست 1997 ء جو اپنا مذ ہب بدلیں تو کسی اور کو فکر پیدا ہو۔کون لوگ ہیں جو بدکار ہوں تو کسی اور کوفکر پیدا ہو۔سوائے جماعت احمدیہ کے کوئی دنیا کی جماعت ایسی نہیں ہے جس میں جب لوگ داخل ہونا شروع کریں تو امیر ملکوں کی سلطنتوں کے کنگرے ہلنے لگتے ہیں اور اس سے پہلے ان کو پتا بھی نہیں تھا کہ کس قسم کے لوگ کہاں بس رہے تھے کس قسم کی شیطانیوں میں ملوث ہیں۔اب یورپ میں بسنے والے جتنے مسلمان ہیں ان میں سے اکثر کے حالات آپ جانتے ہیں شراب نوشی میں مگن ، جوا بازی ان کا عام ایک پیشہ بن چکا ہے۔ہر قسم کی بدیاں جائز ہیں اور کوئی بھی پرواہ نہیں وہ جتنا چاہیں کریں خواہ وہ پاکستانی ہوں، خواہ وہ سعودین ہوں، خواہ وہ کویتی ہوں، خواہ وہ ایرانی ہوں کوئی مجھے بتائے تو سہی کہ کیا کبھی ان کی ان بدیوں کی وجہ سے سعودی عرب میں ارتعاش پیدا ہوا، کیا کبھی ان کی ان بدیوں کی وجہ سے پاکستان میں ارتعاش پیدا ہوا، کیا کبھی ایران میں ارتعاش پیدا ہوا؟ ان کو کوڑی کی بھی پرواہ نہیں۔جہنم میں جائیں جو چاہیں کریں مگر احمدی نہ ہوں۔پس خدا کی راہ کے سوا آگ نہیں لگتی۔اسی لئے قرآن کریم نے جماعت احمدیہ کے متعلق یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ لِيَغِيظُ بِهِمُ الْكُفَّارَ (الفتح : 30) ان کی پہچان یہ ہوگی، ان کی سچائی کی علامت یہ ہوگی کہ جب وہ نشو و نما پائیں گے اور ضرور نشو ونما پائیں گے تو پھر کفار کو آگ لگ جائے گی اس سے۔غیظ و غضب میں وہ جلائے جائیں گے لیکن یاد رکھیں کہ غیظ و غضب تو ضرور ہو گا اگر آپ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی نصیحت کے مطابق خدا کی خاطر کر رہے ہوں گے اور خدا کی طرف بڑھنے والے ہوں گے تو ان کا غیظ و غضب آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ناممکن ہے کہ آپ کی ترقی کو یہ روک سکیں۔کہاں یہ ترقی روک سکے ہیں کوئی ایک ملک دکھاؤ جہاں ان کی بد کردار یوں اور جھوٹے شیطانی پراپیگنڈے کے نتیجے میں جماعت کی ترقی کے قدم رک گئے ہوں۔غوغا ضرور ہے، ایک شور ضرور مچاتے ہیں۔چھاتیاں پیٹتے ہیں کہ یہ کیا ہو گیا۔حکومتیں ارتعاش میں آجاتی ہیں۔ان کی تجوریاں کھلتی ہیں، کچھ پیشہ ور پیسہ کمانے والے ان سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ خوب گھومتے ہیں اور خوب لوگوں کو بتاتے ہیں کہ اس جماعت کی طرف نہ جانا مگر کیا کسی کا قدم روک سکے؟ کبھی بھی روک نہیں سکے۔اس کی تو وہی مثال ہے جو حضرت اقدس مسیح الموعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں بھی پوری اتری اور وہ آئندہ ہمیشہ کے لئے ایک مثال بن گئی۔ایک