خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 628
خطبات طاہر جلد 16 628 خطبہ جمعہ 22 راگست 1997 ء یعنی بعض لوگ آپ دیکھیں گے چالیس برس تک وہ نمازیں پڑھتے چلے جارہے ہیں لیکن نمازوں میں نہ دماغ ہے نہ جان ہے نہ دل ڈالا گیا۔اس لئے پہلے دن کا سفر پہلے دن کا ہی رہا اور چالیس برس اکارت گئے وہیں کھڑے رہیں گے جہاں وہ کھڑے ہوئے تھے۔کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔تمہیں روزوں سے کوئی فائدہ محسوس نہیں کرتے۔تیں روزے سب کی زندگی میں آتے ہیں روزے گزرے تو واپس پہلی بدیوں کی طرف لوٹتے ہوئے اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ الحمد للہ بڑا اچھا رمضان کٹ گیا ایک سال کے لئے مصیبت سے نجات ہوئی اور اب ہم مزے سے وہ سب باتیں کریں گے جو پہلے کیا کرتے تھے۔بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہم بڑے متقی اور مدت کے نماز خواں ہیں مگر ہمیں امداد الہی نہیں ملتی۔کہتے ہیں ہم تو بڑے متقی ہیں خدا سے ڈرنے والے، نمازیں پڑھتے ہیں بڑی دیر سے پڑھ رہے ہیں مگر اللہ کی امداد نہیں ملتی۔اس کا سبب یہ ہے کہ رسمی اور تقلیدی عبادت کرتے ہیں۔وہ عبادت کرتے ہیں رسمی طور پر اسے پورا کرنے کے لئے اور دیکھا دیکھی۔پس ترقی کا کبھی خیال نہیں ، گناہوں کی جستجو بھی نہیں، بچی تو بہ کی طلب بھی نہیں ، پس وہ پہلے قدم پر ہی رہتے ہیں۔یہ وہ مضمون ہے تو بہ ہی کے تعلق میں جس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اب اور آگے بڑھا دیا ہے کہ جو لوگ احمدیت میں داخل ہوں جن لوگوں نے ، جس طرح آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کو سمجھا ہے خوب غور کر کے اپنے حالات پر، اپنی سابقہ زندگی پر نظر ڈالتے ہوئے قدم آگے بڑھایا ہے تو ان کو یہ دکھا نا ضروری ہے کہ لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا دین کا مقصد اللہ کی جستجو اور اللہ کی ذات میں سفر ہے اگر آپ کی نماز اس سفر میں آپ کی مرد نہیں تو وہ نماز بے کار ہے۔پس محض نمازیں پڑھنے سے خوشی محسوس نہیں ہونی چاہئے۔بہت سے ایسے لوگ میں نے دیکھے ہیں خود جرمنی میں بھی اس کی مثالیں ہیں، کہتے ہیں بچی تھی تو بڑی نمازی مگر یہ آفت پڑ گئی۔وہ جو آفت پڑتی ہے وہ خالی نماز کی وجہ سے پڑا کرتی ہے۔شیطان اچکتا ہے تو خالی نمازوں والوں کو اچکا کرتا ہے۔ماں باپ تو یہی دیکھتے ہیں کہ بچی نے نمازیں پڑھ لیں لیکن یہ نہیں پتا کہ وہ کیسی نمازیں تھیں۔کس قدر وہ