خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 627 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 627

خطبات طاہر جلد 16 627 خطبه جمعه 22 راگست 1997ء چل کر بتانا ہوگا کہ یہ بھی کرو، یہ بھی کرو، اپنے نفس کا خیال رکھو اور یہ ممکن نہیں اگر آپ اپنے نفس کا خیال نہ رکھیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اگر بیج بو کر صرف دعا کرتے ہیں تو ضرور محروم رہیں گے۔اب یہ صرف دعا کرنا جو مضمون ہے یہ بھی ہمارے ان دھوکوں میں شامل ہے جن میں بہت سے لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں۔بعضوں سے پوچھے کوئی کیوں جی آپ کے کوئی پھل نہیں لگے کچھ لوگ آئے تھے ضائع ہو گئے ، کہ جی ہمارا کام تو دعا کرنا ہے بس۔دعا ہم نے کر دی آگے اللہ کا کام۔یہ اللہ میاں کی غلطی ہے جو اس نے ہماری دعا کو اپنے بندوں کے حق میں قبول نہیں کیا۔حالانکہ دعا کرنے والے کا دھوکہ ہے۔اگر محنت کے ساتھ دعا نہ ہو اور دعا کے ساتھ محنت نہ ہو تو یہ مضمون ادھورا رہ جائے گا اور کچھ بھی آپ کے ہاتھ نہیں آئے گا۔اگر بیج بو کر صرف دعا کرتے ہیں تو ضرور محروم رہیں گے مثلاً دو کسان ہیں ایک تو سخت محنت اور قلبہ رانی کرتا ہے یہ تو ضرور زیادہ کامیاب ہوگا دوسرا کسان محنت نہیں کرتا یا کم کرتا ہے اس کی پیداوار ہمیشہ ناقص رہے گی جس سے وہ شاید سرکاری محصول بھی ادا نہ کر سکے۔جو سرکاری محصول والا ہے معاملہ یہ ہمیں اپنی بخشش کے لئے کچھ خرچ کرنا پڑے گا اور وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره:4) میں جو کچھ ہم بدنی یا ذہنی یا دلی قربانیوں کے ذریعے یا مالی قربانیوں کے ذریعے خرچ کرتے ہیں یہ سرکاری محصول ہے جس کے بغیر دین بنتا ہی کچھ نہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام اصطلاحیں بھی وہ استعمال فرما رہے ہیں جو اسلامی اصطلاحوں کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں۔اور وہ ہمیشہ مفلس رہے گا۔اسی طرح دینی کام بھی ہیں انہی میں منافق۔(یعنی دینی کاموں میں بھی آپ دیکھیں گے کہ ان میں ہر قسم کے پودے ہیں۔انہی میں منافق، انہی میں نکھے ،انہی میں صالح، انہیں میں ابدال ، غوث، قطب بنتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے نزدیک درجہ پاتے ہیں اور بعض چالیس برس سے نماز پڑھتے ہیں مگر ہنوز روز اول میں ہیں“۔