خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 591 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 591

خطبات طاہر جلد 16 591 خطبہ جمعہ 8 اگست 1997ء پس اس شرط کے ساتھ آپ اس مقام پر کھڑے ہیں جس سے ساری دنیا کو چیلنج دیں لیکن اس چیلنج کے وقت آپ کو یقین ہونا چاہئے۔دنیا کو چیلنج دیں گے تو آپ مصیبت اور وبال نہیں سہی لیں گے۔چیلنج دینے والے کے لئے کچھ بات ہوتی ہے کوئی وجہ ہوتی ہے۔جو چیلنج دیتا ہے وہ جانتا ہے کہ کون میری پشت پر ہے۔وہ جانتا ہے کہ کون میری حفاظت کرے گا اس لئے یہ چیلنج کوئی عام چیلنج نہیں ہے۔یہ چیلنج ایک عرفان کا چیلنج ہونا چاہئے۔آپ جانتے ہوں کہ آپ اپنے اندروہ پاک تبدیلیاں پیدا کر چکے ہیں جو حضرت نوح کی کشتی پر سوار ہونے کے لئے ضروری تھیں۔وہ تبدیلیاں بھی کشتی ہیں۔اصل میں کشتی کا ظاہر ارونما ہونا ان کا ایک ذریعہ ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ وہ ذریعے خود ہی بتایا کرتا ہے مگر آپ اپنی ذات میں حضرت نوح کی قوم یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو اس زمانے کے نوح ہیں ان کی حقیقی قوم بننا سیکھ لیں پھر یقین کے ساتھ چیلنج دیں۔بعض لوگ چیلنج کو دہراتے رہتے ہیں حالانکہ نہیں جانتے کہ اس چیلنج کو دہرانے کے لئے بھی انسان کے اندر کچھ تبدیلیاں ہونی ضروری ہیں۔پس مباہلے کا جو میں نے چیلنج دیا تھا اس سلسلے میں کئی لوگوں نے اپنی طرف سے آگے چیلنج دینے شروع کر دیئے ان میں سے ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنے اندر کوئی پاک تبدیلی پیدا نہیں کی۔پھر مجھے علم ہوا تو میں نے ان سے کہا کہ آپ کے اس چیلنج کا کوئی بھی فائدہ نہیں۔اگر قسمت سے اگلا مر گیا تو وہ بھی اس چیلنج کا نتیجہ نہیں ہوگا۔اگر قسمت سے آپ کی ٹانگ ٹوٹ جائے تو یہ بھی چیلنج کا نتیجہ نہیں ہوگا۔دونوں طرف کچھ نہ ہو تو یہ بھی ٹھیک ہے عام حالات میں یہی متوقع ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر ایک چیلنج دینا اور اس کی شرائط کو معین سامنے رکھنا یہ اللہ تعالیٰ اپنے مومنین کی جماعت کے سربراہ کو اس وقت سمجھاتا ہے جب اس کا وقت آئے اس لئے ہر کس و ناکس کا کام یہ نہیں ہے کہ اپنی طرف سے خواہ مخواہ چیلنج دیتا پھرے۔چنانچہ ایک صاحب نے چیلنج دیا اور اس میں یہ بھی کہہ دیا کہ اگر تمہیں کچھ نہ ہوا تو میری احمدیت سے تو بہ۔اگر مجھے کچھ نہ ہوا تو تمہاری غیر احمدیت سے تو بہ۔اب یہ سمجھ نہیں آرہی کہ دونوں میں سے کون تو بہ کرے دونوں ٹھیک ٹھاک ہیں، وہ غیر احمدیت سے تو بہ کرے یا یہ احمدیت سے تو بہ کرے۔تو خدا تعالیٰ کی طرف سے جو چیلنج اترا کرتے ہیں ان کو تخفیف کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے۔غور سے اس مباہلہ کو پڑھیں ، اس کے الفاظ پر غور کریں اور پھر جیسا کہا گیا ہے ویسا ہی دیں۔اس میں یہ کب کہا گیا ہے کہ جو احمدی بھی اٹھ کر کسی کو یہ چیلنج دے دے گا وہ احمدی ایک مہینے کے اندر اندراس