خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 584
خطبات طاہر جلد 16 584 خطبه جمعه 8 راگست 1997ء رہی ہے لیکن یہ لوگ چھاتی پیٹ رہے ہیں اور منہ سے یہ کہتے چلے جارہے ہیں کہ ہم نے ہرا دیا، ہم نے ہرا دیا۔عجیب حالت ہے کہ مارتم کھا رہے ہو، تمہارے حواس باختہ ہورہے ہیں، بات کرنے کا سلیقہ بھول گئے ہو، نہ منطق رہی نہ دلیل اور کبھی ایک طرف پناہ لینے کی کوشش کرتے ہو کبھی دوسری طرف پناہ لینے کی کوشش کرتے ہو اور جو حالات ظاہر ہورہے ہیں ان پر کوئی بس نہیں ہے تمہارا تم منہ سے یہ کہتے چلے جارہے ہو کہ ہم نے احمدیت کو شکست دی ،عبرتناک شکست دی ،سب دنیا سے اس کے پاؤں اکھاڑ دیے۔پتا نہیں پاؤں اکھیڑ نا یہ کس چیز کو کہتے ہیں۔جہاں تک ان باتوں کا تعلق ہے یہ تو آپ دن بدن دیکھیں گے کہ ہمیشہ یہ اپنی ذلتوں اور نامرادیوں کے اعتراف میں بڑھتے چلے جائیں گے لیکن ان کا اعتراف اور طریقے سے ہوتا ہے۔ان کے اعتراف میں بھی ایک بے اعترافی پائی جاتی ہے۔کبھی منہ سے ایک بات نکل جاتی ہے کبھی دوسری بات نکل جاتی ہے، اعتراف ان کو کرنا پڑتا ہے۔منظور چنیوٹی نے یہ اعلان کیا یہاں ایک موقع پر اسی سال کے حصوں میں کہ دیکھو جب میں نے ان کو نکالا تھا پاکستان سے اس وقت ان کی کیا حیثیت تھی اب یہ سب دنیا میں پھیل گئے ہیں۔اندازہ کرو کہ اعتراف کرنے کے بھی طریقے ہوتے ہیں کہ دیکھ لو سب دنیا میں پھیل گئے ہیں۔مجھے پیسے دو تا کہ میں ان کا علاج کروں۔پیسے تمہیں دو۔جس طرح پہلے پیسے برباد ہوئے ، تمہاری اپنی جائیداد میں تبدیل ہو گئے ، لوگوں کے قبرستان تم نے خرید لئے ، ان پر چڑھ دوڑے باقی پیسے دے کر تمہارا کیا بنے گا یہی کچھ ہو گا لیکن سب دنیا کی طاقتیں بھی تمہیں پیسے دیں تو ہمارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ناممکن ہے۔ذلت پر ذلت کی مار تم پر پڑتی چلی جائے گی اور یہ تقدیر ہے جو تم تبدیل نہیں کر سکتے۔یہ ضمنا میں نے ذکر کیا ہے ورنہ اس منحوس شخص کا نام لینا بھی مجھے گوارا نہیں تھا کیونکہ جب اس کا نام لے لوں تو فخر سے کہتا ہے دیکھو میرا نام لیا جارہا ہے۔یہ اعلان کرتا پھرتا ہے میری شان دیکھو میرا نام مرزا طاہر احمد لے رہا ہے۔عجیب وغریب حماقتوں کی پوٹ ہے یہ شخص اور ذلت اور رسوائی کی جس کو شرم کا نام نہیں آتا۔کسی معاملے میں شرم وحیا نہیں۔بار بار سمجھایا جاچکا ہے کہ تمہیں تو مرجانا چاہئے تھا تمہیں تو پھانسی لگ جانا چاہئے تھا تم اپنے اقرار کی رو سے پھانسی لگ چکے ہو اور اب بول رہے ہو۔بہر حال یہ ذکر ایسا نہیں کہ جس پلید ذکر کو زیادہ بڑھایا جائے صرف اشارہ میں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا ہے۔