خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 52
خطبات طاہر جلد 16 52 42 خطبہ جمعہ 17 /جنوری 1997ء آیا ہے کہ دو آدمی بڑے بد قسمت ہیں ایک وہ جس نے رمضان پایا اور رمضان گزر گیا پھر اس کے گناہ بخشے نہ گئے اور دوسرا وہ جس نے والدین کو پایا اور والدین گزر گئے اور اس کے گناہ نہ بخشے گئے۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ: 289) یہ جو دو قسم کے انسانوں کا ذکر ہے دراصل یہ اللہ کے تعلق میں لازماً یہی مضمون ہے جو رمضان کے ساتھ گہراتعلق رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حوالے سے یہی مضمون ہے جو رمضان کے حوالے سے سمجھانا بہت ضروری تھا اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے یہ جو بات بیان فرمائی ہے کہ والدین کو پایا اور گناہ بخشے نہ گئے اسی حالت میں رمضان گزر گیا یہ بہت ہی گہرا نکتہ ہے جس کا قرآنی تعلیم سے تعلق ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا به شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (الانعام: 152) تو کہہ دے کہ آؤ میں تمہیں وہ بات بتاؤں جو خدا تعالیٰ نے حرام کر دی ہے تم پر۔ایک یہ کہ خدا کا شریک نہیں ٹھہرانا۔اپنی عبادت کو اسی کے لئے خالص کرلو۔دوسرا یہ کہ ماں باپ سے لازماً احسان کا سلوک کرنا ہے اور ماں باپ کی نافرمانی کر کے خدا کی ناراضگی نہ کما بیٹھنا۔تو شرک کا مضمون خدا تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا کہ میرا شرک کرو گے تو یہ بہت ہی بڑا گناہ ہوگا۔حرام کر دیا ہے تم پر لیکن ماں باپ سے جو احسان کرو گے وہ میرا شریک بنانا نہیں ہے۔شرک سے نیچے نیچے اگر کسی کی عظمت خدا تعالیٰ نے قائم فرمائی ہے تو وہ ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی ہی نہیں اس سے بڑھ کر ان سے حسن سلوک کرنا ہے۔پس حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ رمضان شریف میں دو آدمی بڑے بد قسمت ہیں جو نہ خدا کو پاسکیں نہ ماں باپ کا کچھ کرسکیں رمضان گزر جائے اور ان دو پہلوؤں سے ان کے گناہ بخشے گئے ہوں تو یہ دوالگ الگ چیزیں نہیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط چیزیں ہیں۔وجہ یہ ہے کہ اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے اور اس احسان میں اور کوئی شریک نہیں ہے۔یعنی اس نے آپ کو پیدا کیا اس نے سب کچھ بنایا اور ماں باپ بھی اس میں شریک ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ ماں باپ کو بھی اسی نے بنایا اور ماں باپ کو جو تو فیق بخشی آپ کو پیدا کرنے کی وہ اسی نے پیدا کی ہے، اپنے طور پر تو کوئی کسی کو پیدا کر ہی نہیں سکتا اپنے زور سے۔ایک معمولی سا خون کا لوتھڑا بھی انسان پیدا نہیں کر سکتا اگر خدا تعالیٰ نے اس کو ذرائع نہ بخشے ہوں۔