خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 570
خطبات طاہر جلد 16 570 خطبہ جمعہ یکم راگست 1997ء آکر انہوں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا کہ جو چاہو ہم پر کام کرو ہم رضائے باری تعالیٰ کے لئے جھکنے کے لئے تمہارے حضور حاضر ہو گئے ہیں۔یہ عدد کی برتری ہے کہ اتنی گردنیں خدا کے حضور حاضر ہوگئیں ورنہ جماعتی لحاظ سے تعداد بڑھانا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ہمیں اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ابھی چند دن ہوئے کو ریا کے نمائندے یہاں تشریف لائے ہوئے تھے ان سے گفتگو ہوئی وہاں ایک کورین خاتون ہیں جنہوں نے واقعہ اسلام کو سچا سمجھ کر قبول کیا ہے اپنے خرچ پر یہاں تشریف لائیں مجھے مشورے دے رہی تھیں کہ کیا کیا ہم ہوشیاریاں کریں تو کوریا میں کثرت سے پھیل سکتے ہیں۔جب وہ بات کر چکیں تو میں نے کہا جس طرح عیسائیت۔انہوں نے کہاہاں عیسائیت دیکھو کتنی پھیل گئی لکھو کھا انسان ہلینز (Millions) دیکھتے دیکھتے عیسائی بن گئے تو آپ بھی کچھ ان سے ملتی جلتی باتیں کریں۔انہوں نے اتنے مدر سے بنائے، کئی کالج ہسپتال بنائے ، رفاہ عامہ کے یہ کام کئے اور اس کے نتیجے میں دیکھو ملیز عیسائی بن گئے۔جب وہ بات ختم کر چکیں تو میں نے کہا ان ملین عیسائیوں میں کیا پاک تبدیلی آپ نے دیکھی ہے؟ کتنے ہیں جنہوں نے خدا کی خاطر دنیا کے مسلک چھوڑ دیئے؟ کتنے ہیں جو بہتر انسان بن گئے اور خدا کے سامنے سر جھکانے والے ہو گئے؟ کچھ دیر تک وہ خاتون سوچتی رہیں اور پھر ان کا جواب صفر نکلا کہ میرے علم میں کوئی نہیں۔میں نے کہا یہ سیاست ہے یہ مذہب نہیں ہے یہ وہ دین ہے جس کو دین اللہ نہیں ہم کہہ سکتے اور ہمیں تو دین اللہ میں دلچسپی ہے۔اس لئے اگر آپ اکیلی بھی کوریا میں احمدی مسلمان بن کر اپنے آپ کو خدا کے حضور جھکا دیں تو وہاں احمدیت کامیاب ہے اور عیسائیت نا کام ہے کیونکہ عیسائیت اگر مذہب لے کر وہاں پہنچی ہے تو مذہب میں دھوکہ دیا ہے۔عیسائیت در اصل امریکہ کی سیاسی حیثیت کا ایک دوسرا چہرہ ہے۔پس ان ملکوں میں جہاں عیسائیت پھیلے اور پھیلنے کے ساتھ تبدیلی کے تقاضے نہ کرے یہ شرط ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ دین مُخْلِصًا لهُ الدِّينَ ہے یا دنیا کے لئے مخلص ہونا ہے۔ان سارے ممالک میں جہاں جہاں عیسائیت پھیل رہی ہے آپ یہ غور کریں کہ عیسائی ہونے والے کی پہلی زندگی اور عیسائیت کے بعد کی زندگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور فرق نہ پڑنے پر گھبرا تا کوئی نہیں۔بے چین کوئی نہیں ہوتا، کسی کی نیندیں حرام نہیں ہوتیں کہ ہائے کیوں فرق نہیں پڑ رہا۔نام عیسائیت کا رکھ لو پہلے کی ساری زندگی کو اسی طرح آگے بڑھا دو اور بے تبدیلی وہ زندگی آگے بڑھتی چلی جائے۔شراب نوشی تو خیر