خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 558 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 558

خطبات طاہر جلد 16 558 خطبہ جمعہ 25 / جولائی 1997 ء معک کماهو معى۔قل لى الارض والسماء۔قل لي سلام۔في مقعد صدق عند مليك مقتدر ان الله مع الذين اتقوا و الذين هم محسنون ياتى نصر الله انا سننذر العالم كله انا سننزل انا الله لااله الاانا ( تذکرہ ایڈیشن چہارم : 249) یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایسے ترجمے کے ساتھ پیش کیا ہے جو خود اپنی ذات میں ایک تشریح اور تفسیر کے معنی رکھتا ہے فرماتے ہیں یعنی آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آسمانی طاقتیں اور خدائی نوشتے تیری تائید کریں گے۔اس زمین پر تو اپنی کوشش کر لیکن آسمان سے ایسی ہوائیں چلائی جائیں گی جو تیری مددگار ثابت ہوں گی۔اس زمانے میں آسمان کس طرح ساتھ تھا یہ فرشتوں کا نزول ہو رہا تھا۔قادیان میں طرح طرح کے آسمانی نشان دکھائے جا رہے تھے خود اس سال میں یعنی 1897ء یعنی 97 ء کے لحاظ سے جو د ہرایا جارہا ہے۔عظیم الشان نشانات اس سال دکھائے گئے تھے ان کا ذکر بعد میں کروں گا لیکن یہاں میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہی الہام ایک نیا رنگ اختیار کر جاتا ہے جب اس کو 1997ء میں پڑھتے ہیں۔آسمان کا ساتھ ہونا MTA کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے اور یہ امر واقعہ ہے کہ MTA کے ذریعہ کل عالم میں آسمان نے جو گواہیاں دی ہیں وہ حیرت انگیز ہیں۔اس کثرت کے ساتھ وحدت نصیب ہوئی ہے کہ جب ہم اس الہام کو 1897ء کی بجائے 1997ء میں پڑھتے ہیں تو پھر اس کے معنی ہیں آسمان اور زمین تیرے ساتھ ہیں یعنی خدا تعالیٰ کی وہ آسمانی طاقتیں جو ابھی ظہور میں نہیں آئیں وہ بھی تیرے ساتھ ہوں گی جیسا کہ وہ میرے ساتھ ہیں۔یعنی آنحضرت مے نے جس خدا کو پیش فرمایا وہ جیسا کہ آسمان پر تھا ویسا ہی زمین پر ظاہر ہوا۔مراد یہ نہیں ہے کہ نعوذ باللہ سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو باقی انبیاء سے کوئی فوقیت عطا ہوئی ہے۔ہر نبی کے ساتھ آسمان کا خدا اتر تارہا ہے اور اس کے زمین پر اترنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زمینی طاقتیں آسمانی طاقتوں کے سائے تلے اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔پس اس پہلو سے ہم جب اس سال اس الہام کو پڑھتے ہیں تو آسمان ہمارے ساتھ ہے اس سے مراد یہ ہے کہ آسمان کی متحرک طاقتیں ، وہ ریڈیائی وجود جس کا پہلے علم نہیں تھا اب کلیہ جماعت احمدیہ