خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 434
خطبات طاہر جلد 16 434 خطبہ جمعہ 13 / جون 1997 ء علم تو دو ہی ہیں یا روحانی علوم ہیں مذہب کے یا بدن کی صحت کے علوم ہیں یا سائنس کے علوم ہیں۔تو اس پہلو سے ان کو جب یہ پتا چلتا ہے کہ لکھنے والا بالکل صاف ہے، خدا کو مانتا ہے خدا کی معرفت کی باتیں موجود ہیں اس کتاب میں تو اس کا دل بدلتا ہے اور ایک واقعہ نہیں ہوا بیسیوں ایسے ہیں جو میرے علم میں ہیں صرف ہومیو پیتھی کی کتاب پڑھ کے احمدیت کی طرف توجہ ہوئی ، احمدی لٹریچر مانگا اور پھر آخر اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمیں ہدایت مل گئی ہے۔تو اس کو بھی آپ اس لائبریری کا حصہ بنائیں اور اگر ممکن ہو یعنی ایک زائد میں آپ کو ترکیب بتا رہا ہوں آپ کی لائبریریوں میں دلچپسی کی ، وہاں جو احمدی ہو میو پیتھ بن رہے ہوں یا ان کو واقفیت ہو ان کو مقرر کریں اور تبلیغ کے لئے ایک ذریعہ اس کو بنالیں۔آپ ان سے کہیں کہ تم فلاں وقت ہمارے پاس آؤ وہاں ایک علم شفا کا ماہر بھی بیٹھا ہوا ہے جو مفت دوائی بھی تقسیم کرے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری اس لائبریری میں ہومیو پیتھی کی دوائیاں بھی ہونی چاہئیں۔مگر اس ضمن میں مجھے اکثر جماعتوں سے شکوہ ہے کہ باوجود اس کے کہ ہم نے ہر جگہ بنیادی دوائیں تقسیم کیں یعنی ہر جگہ مفت تقسیم ہورہی ہیں ، اس کو آگے پھیلانے کا انتظام تجویز کیا یعنی انتظام تو بنانا تھا جماعت نے مگر ہم نے تجویز کیا، اس طرح اس کا انتظام کریں گے اور ہر جگہ بہت ہی معمولی قیمت پر ان دواؤں کو آگے بڑھانے کا اور زیادہ بنانے کا طریقہ سمجھایا یہاں تک کہ ساری بڑی بڑی جماعتوں میں بڑے بڑے ملکوں میں کثرت کے ساتھ ایسے اڈے قائم ہو سکتے ہیں جہاں سے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ مفت علاج کا سلسلہ جاری ہو جائے۔اب انگلستان کو خصوصیت سے اس کی بہت ضرورت ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اب ہسپتالوں اور دوسرے ادارے جن کا صحت سے تعلق ہے ان پر حکومت کا اتنا خرچ اٹھ رہا ہے کہ اب رفتہ رفتہ مجبور ہیں کہ مریضوں کو یہ کہیں کہ تم بھی اپنا حصہ ڈالو۔بعض جگہ پہلے مفت علاج تھا اب وہ کہتے ہیں تم اپنے ڈاکٹر کو جو ہر علاقے کے لئے مقرر ہوتا ہے اس کو خود Pay کرو،خود اس کو کچھ دو اور یہ سلسلہ آگے بڑھنے والا ہے۔امریکہ میں علاج اتنا مہنگا ہو چکا ہے کہ بعض لوگ تو علاج سے زیادہ مرنا قبول کرلیں گے۔حد سے زیادہ وہ قصاب بن گئے ہیں اس وقت علاج کے ضمن میں۔تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ، جماعت احمدیہ کو یہ موقع دیا ہے کہ اس خزانے کو بانٹیں اور عام کریں اور لوگوں کی شفا میں جہاں تک دنیا کا علم ہے یعنی خدا کا دیا ہوا علم وہ استعمال کریں اور دعا بھی ساتھ استعمال کریں اور اس ذریعے