خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 34 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 34

خطبات طاہر جلد 16 34 == خطبہ جمعہ 10 / جنوری 1997ء گا۔ایک ذکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا، وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے ہوگا۔اس پر لیکھرام کی ہرزہ سرائی یہ ہے کہ خدا نے یہ فقرہ سن کر مسکرا کر فرمایا کہ تو اس فریب کو سمجھا۔عرض کیا کہ میں تو دوکوس کے فاصلے پر رہتا ہوں مجھے کیا معلوم کہ کیا واقعی لڑکا ہوگا۔اس طرز پر اس نے ہر بات کی تضحیک کی ، ہر بات کو تمسخر اور بدزبانی کی چٹکیوں میں اڑانے کی کوشش کی۔آپ نے فرمایا: وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا۔کہتا ہے ”خدا نے بتایا وہ نہایت غیبی اور کو دن ہوگا۔وہ دل کا حلیم ہو گا۔کہتا ہے ”خدا کہتا ہے وہ نہایت غلیظ القلب ہوگا۔فرمایا: علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا لیکھر ام کے تصور کے خدا نے اس کو یہ بتایا کہ وہ علوم صوری و معنوی سے قطعی طور پر محروم کیا جائے گا۔“ غرض یہ کہ اس بکو اس میں بڑھتے بڑھتے آخر اس نے یہ پیش گوئی کی کہ آپ کہتے ہیں چھ سال میں میں ہلاک ہو جاؤں گا۔میری یہ پیشگوئی ہے جو مجھے خدا نے بتائی ہے کہ تین سال میں تیرا اور تیری ذریت کا نشان قادیان سے مٹا دیا جائے گا۔لوگ پوچھیں گے تو قادیان والوں کو خبر نہیں ہوگی کہ کون یہاں آیا تھا اور کون چلا گیا۔پس اس رنگ میں یہ پیش گوئی اپنے آخری منطقی نقطہ عروج کو پہنچی۔اس سے سمجھ آتی ہے کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے چھ سال کی مدت کا انذار فرمایا کیونکہ عین تین سال تک اپنی آنکھوں سے حضرت مصلح موعود کو پلتا، پھولتا پھلتا ہوا دیکھنا اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا تھا کہ وہ دیکھ لے اپنی آنکھوں سے کہ جو وہ کہتا تھا یہاں تک اس نے کہا کہ جو پیدا ہوگا وہ کوئی لوتھڑا سا ہوگا اور وہ بھی چند دنوں کے اندر مر جائے گا اور فنا ہو جائے گا۔تو یہ ساری باتیں لکھنے کے بعد جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چھ سال کی ہلاکت کی پیش گوئی فرمائی ہے تو ان معنوں میں بالکل بر محل تھی کہ 1893ء میں حضرت مصلح موعودؓ چار سال کے ہو چکے تھے اور 1897ء میں آپ آٹھ سال کے ہو چکے تھے اور اس چار سال کے عرصے میں یا ساڑھے تین سال کے ہو گئے ہوں گے مزید۔تو سات آٹھ سال کے درمیان کا بچہ کھیلتا دوڑتا پھرتا ہوا اس نے اس قادیان میں دیکھا اور سنا جس کے متعلق وہ کہتا تھا کہ تین سال کے اندراندر تیرا اور تیری ذریت کا نام ونشان مٹا دیا جائے گا اور پھر جب وہ پیش گوئی پوری ہوئی ہے تو اس کی تفصیل یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں آپ سب لوگ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عین عید کے ساتھ متصل دن کو ایک ایسا لڑکا جس کو خود اس نے اپنے گھر میں پناہ دی تھی اور وہ مسلمانوں میں سے آریہ بن کر اس کے