خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 371
خطبات طاہر جلد 16 371 خطبہ جمعہ 23 رمئی 1997ء کے لئے ، خدا کی خاطر اور اپنے وجود کی خاطر، بنی نوع انسان کی خاطر اپنے آپ کو کسی قومی شخصیت کے ساتھ نہ ابھاریں بلکہ توحید کی شخصیت کے ساتھ ابھاریں۔آپ کی ذات میں دنیا کو خدا دکھائی دینے لگے۔دنیا دیکھے کہ آپ رحمن ہیں، رحیم ہیں، کریم ہیں، حوصلہ رکھتے ہیں، نیچے اترنے کا، غریبوں کی بات کا، کمزور کی بات سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں گنہگاروں سے بھی تعلق رکھتے ہیں صرف اپنی بڑائی اور نیکی میں مگن نہیں ہیں اور سب کی خیر چاہتے ہیں۔جب آپ رحمن بن کے برستے ہیں تو ہر چیز پر برابر اپنا فیض جاری کرتے ہیں،گردو پیش سب آپ سے فیض اٹھاتے ہیں۔اس وجود کے طور پر آپ ابھریں گے تو ناممکن ہے کہ دنیا کی کوئی قوم بھی آپ کوٹھکرا سکے کیونکہ آپ کے اندر آنحضرت ﷺ کے حوالے سے رحمانیت کی صفات جلوہ گر ہوں گی۔اس پہلو سے میں نے دو تحریکیں آپ کے سامنے خصوصیت سے رکھی تھیں ایک یہ کہ کل عالم کو ایک کرنے کے لئے اپنے اپنے ملک میں وحدانیت کے مناظر پیش کریں۔اب جرمنی اس کے لئے ایک بہترین سرزمین ہے۔جرمن قوم کو وحدانیت میں اکٹھا کرنا اور ایک وحدانیت میں پرونا یہ ایک بہت بڑا کام ہے کیونکہ جرمن قوم کے ذریعے پھر آگے دنیا میں وحدانیت کے نظام کو عام کرنا نسبتاً آسان ہو جائے گا لیکن ہوگا یہ بھی اگر آپ اپنے آپ کو رحمن خدا کے نمائندے کے طور پر پیش کریں۔محمد رسول اللہ ﷺ کی عالمی صفات کے حوالے سے پیش کریں آپ میں وہ پاکستانی نہ دیکھیں، آپ میں وہ بنگالی نہ دیکھیں، آپ میں عرب نہ دیکھیں، آپ میں کوئی افریقن نہ دیکھیں۔ایک ایسا انسانی وجود دیکھیں جس میں اللہ تعالیٰ کی صفات جلوہ گر ہیں تو پھر وہ پاگل تو نہیں کہ اپنے وجود کو الگ سمجھیں کیونکہ خدا سے ملے بغیر وہ زندہ رہ ہی نہیں سکتے۔خدا کے ہوئے بغیر ان کو وجود کا تشخص ہی کوئی نہیں ملتا وہ مردہ چیزیں ہیں۔پس یہی وہ وجہ ہے جو میں نے اس آیت کے حوالے سے آپ کو، سائنس دانوں کی زبان میں بعض ایسی باتیں سمجھا ئیں جن کا تعلق صفات باری تعالیٰ اور وجود سے ہے۔آپ اگر صفات باری تعالیٰ کو اپنا لیں گے تو لازماً ان کو اپنی زندگی کی خاطر آپ سے جڑنا ضروری محسوس ہوگا۔لا ز ما یہ آپ سے ملیں گے اور آپ سے ایک ہو جائیں گے اس کے بغیر ان کی زندگی کا معنی ہی سمجھ میں نہیں آسکتا۔اس کے بغیر ان کو اپنی زندگی بے کا ر دکھائی دے گی اور حقیقت میں وہ زندگی ہے بھی نہیں جو صفات