خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 367

خطبات طاہر جلد 16 367 خطبہ جمعہ 23 رمئی 1997ء قومی تشخص غائب ہو گیا اور ایک ایسا رسول ابھرا ہے جو کل عالم کے لئے برابر ہو گیا اور یہ چیز رسالت کے ساتھ لازمی ہے اور بہت سے لوگ نہیں سمجھتے۔اب دیکھو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان مغربی قوموں نے کیوں قبول کیا اور کیوں اپنا لیا وہ تو فلسطین کے باشندے تھے، وہ تو سمیٹک ( Semitic) قوم کے ایک شخص تھے۔یورپ والوں کو کیا سوجھی کہ ان کو ایسا اپنا لیا کہ خدا کا بیٹا تک بنا بیٹھے۔امریکہ اور دور دراز کے ممالک، مشرق و مغرب میں کیوں ایسے پیدا ہوئے جن کے رنگ نسل، قومیت سب الگ الگ تھے مگر فلسطین کے پیدا ہونے والے ایک شخص کو انہوں نے اپنا لیا۔اس لئے کہ اس کی صفات میں انہوں نے الوہیت کے رنگ دیکھے تھے اس لئے کہ اس الوہیت کے رنگ کو انہوں نے پھر بڑھا کر خدا میں تبدیل کر دیا مگر عالمیت خدا سے تعلق رکھتی ہے یہ مضمون ہے جو انہوں نے عملاً ثابت کر دیا اور اس کے نتیجے میں بڑے بڑے تعصبات پیدا ہوئے مگر وہ تعصبات کی کہانی بھی ایک دردناک اور الگ کہانی ہے میں اس کی تفصیل میں نہیں جاتا۔میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ عیسائیت کی مثال آپ کے سامنے ہے کتنی مختلف قوموں، کتنے مختلف ممالک سے تعلق رکھتی ہے مگر ایک ایسے انسان پر اکٹھی ہو گئی جو اپنی ذات میں ایک سمیٹیک قوم کا باشندہ تھا اور عربوں میں سے تھا فلسطینی ہونے کے لحاظ سے اور ان کو یہ بات سمجھ نہ آئی کہ بعینہ اسی دلیل پر عرب ہی سے وہ ایک وجود اٹھے گا جو خدائی صفات ہونے کے لحاظ سے عالمی وجود بن جائے گا اور اس کو خدائی صفات کا مظہر ہونے کے اعتبار سے ہمیں لازماً قبول کرنا ہوگا۔پس جیسے عیسی صلى الله علیہ السلام نے قومیتیوں کے فرق مٹادیئے تھے وہی عیسی ہیں جن کی قوموں نے لازماً محمد رسول اللہ یہ کی طرف جھکنا ہے کیونکہ آپ نے بھی قوموں کے فرق محض ایک چھوٹے دائرے میں نہیں مٹائے بلکہ عالمی دائرے میں مٹائے ہیں۔کل عالم سے خدا تعالیٰ کی ان صفات کی جلوہ گری کے ذریعے جو عالمی صفات ہیں ، آنحضرت میر نے قومیتیوں کے رنگ مٹا دئیے۔پس قوموں کا تفرقہ مٹانا لازم ہے مگر تو حید کے ذریعے، وحدت الہی کے ذریعے۔اس کو چھوڑ کر آپ قومی تفرقہ مٹانے کی کوشش کریں، آپ سر ٹکرالیں گے، اپنے وجود کو پارہ پارہ کر لیں گے مگر یہ قومی تعصب کبھی مٹائے نہیں جاسکیں گے۔ایک زبان ہی کو دیکھ لیجئے جب پاکستان کا وجود بھی بننے والا تھا حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ اعلان کیا اور بعد میں پاکستانی سربراہوں کو بات