خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 316
خطبات طاہر جلد 16 316 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997 ء لئے جب میں مسلسل خطبات میں آپ کو تو بہ کا مضمون سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، بیدار کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو اکتائیں نہیں، مجھے معذور سمجھیں اس بات میں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ایسا مضمون ہے جو آسانی کے ساتھ دل تک پہنچا نہیں کرتا۔انسان سمجھتا ہے اچھا ہے مگر یہ سمجھتا ہے کہ دوسروں کے حق میں اچھا ہے۔جب اپنے اوپر بات آئے تو وہاں اس کی قبولیت کے دروازے بند ہو چکے ہوتے ہیں اور اگر کھولتا بھی ہے تو گھبراتا ہے کیونکہ اندھیروں میں رہتے رہتے روشنی بری لگنے لگتی ہے۔پس اس لئے آپ دعائیں کریں اور اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں اور مرکزی دعا کا نکتہ وہی ہے جو سورۃ فاتحہ کی مرکزی آیات ہیں اور ہر نماز میں آپ ان کی تلاوت کرتے ہیں۔ان کو ہوش سے کم سے کم ان کو تو ہوش سے پڑھیں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اے ہمارے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرنا چاہتے ہیں۔فیصلہ کر لیا ہے کہ تیرے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور اتنا مشکل کام ہے، ایسا بڑا دعویٰ ہے کہ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ مدد بھی تجھ سے مانگتے ہیں۔تو توفیق دے گا تو ہمیں یہ نصیب ہو گا ورنہ یہ نصیب ہو نہیں سکتا۔پس اس انکسار کی حالت تک پہنچ کر اپنے آپ کو بالکل بے بس دیکھتے ہوئے اور جانتے ہوئے ، یقین کرتے ہوئے پھر جب خدا تعالیٰ سے آپ یہ دعا کریں گے کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں تو آپ کے اندر انقلاب بر پا ہوگا اور وہ انقلاب ایسا نہیں ہوگا جو پھر دکھائی نہ دے کیونکہ جس کے اندر شعور جاگتا ہے اس کا جا گنا دنیا دیکھ لیا کرتی ہے۔دیکھو نبیوں کا شعور جب جاگتا ہے تو کل عالم کو ہلادیا کرتا ہے۔قوموں کے اندرایک ارتعاش پیدا کر دیتا ہے۔پس وہ شعور جگائیں جس شعور کا جا گنا اسلام کے لئے لازم ہے۔وہ شعور جگائیں جو عالمی انقلاب کے لئے ضروری ہے۔آنحضرت ﷺ کا جس طرح شعور جا گا اور ساری دنیا کی اصلاح کے لئے آپ بے قرار و بے چین ہو گئے اسی طرح اپنے شعور کو پہلے اپنی اصلاح پر تو آمادہ کریں۔اپنے چھوٹے سے عالم کی جو آپ کے نفس کا عالم ہے جو آپ کے سینے کے اندر چھپا ہوا ہے، جو باہر دنیا کو دکھائی بھی نہیں دیتا جو آپ کے بازوؤں میں سمٹا ہوا ہے اس کو تو پہنچا نہیں ، اس کو تو دیکھیں، اس میں انقلاب پیدا کر نیکی تو تمنا دل میں پیدا کریں۔اگر آپ ایسا کریں گے تو میں یہ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ پھر آپ چھپے ہوئے وجود نہیں رہیں گے۔