خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 310

خطبات طاہر جلد 16 310 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997ء ادا کر نے کے اہل ہو چکے ہوں گے۔ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ دنیا میں جہاں جہاں بھی جماعت احمد یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہی ہے اور تیزی کے ساتھ انقلاب برپا ہو رہا ہے وہاں اس انقلاب کے اپنے جو تقاضے ہیں ان کو وہ کیسے پورا کر سکتے ہیں۔دیکھو ایک آدمی اگر کسی ایک شخص کو مسلمان بنالے تو اس کو اپنے ساتھ لگا کر اپنے پروں کے نیچے رکھ کر ان کی تربیت کرنا بھی ایک بڑا کام ہے اور بہت کم ہیں جو اس کام کو جیسا کہ حق ہے ادا کرتے ہیں۔بیعت کر والی اور سمجھ لیا کہ مقصد حل ہو گیا حالانکہ بیعت کے ساتھ مقصد حاصل کرنے کا آغاز ہوتا ہے نہ کہ مقصد حاصل ہونا۔بیعت تو اس کے سوا اور کوئی حقیقت نہیں رکھتی کہ ایک شخص نے اپنے آپ کو آپ کے سپر د کر دیا یعنی جماعت احمدیہ کی پناہ میں آگیا اور کہا اب مجھ پر جو عمل کرنا ہے کرو، جیسا مجھے بنانا چاہتے ہو بنالو اور اگر آپ بیعت ہی کو انجام سمجھیں اور وہیں بات ختم کر دیں تو جیسا وہ تھا ویسا ہی رہے گا بلکہ جہاں وہ جائے گا وہاں بھی اپنے گردو پیش کو اپنے جیسا بنانا شروع کر دے گا۔پس بجائے اس کے کہ اس کا آنا آپ کے لئے بابرکت ہو اس کا آنا بعض دفعہ نحوستوں کا موجب بن جاتا ہے کیونکہ بہت سی بدرسموں میں مبتلا آتا ہے، بہت سی اندرونی بیماریوں کا شکار آتا ہے۔اگر آپ نے فوری طور پر اس کی اصلاح کی طرف توجہ نہ کی تو ہرگز بعید نہیں کہ وہ اپنی بیماریاں اس نئے ماحول میں منتقل نہ کرے جس ماحول نے اسے اپنایا ہے۔تو یہ جو تقاضے ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا ان کو اگر میں گننا شروع کروں تو ایک دو چار خطبوں میں بھی ان کو پوری طرح آپ کے سامنے کھول کر بیان نہیں کر سکتا مگر باتیں ایسی ہیں جو بہت ہی پریشان کن ہیں اور طبیعت میں ہیجان پیدا کر دیتی ہیں۔لگتا ہے تھوڑا وقت ہے اور کام بے انتہا پڑا ہوا ہے۔آخر کیا کرے انسان کہ ساری جماعت کو اس کام میں دین کی مدد کے لئے آمادہ کر سکے۔اس قسم کی بے چینی کا اظہار حضرت عیسی نے اس طرح کیا تھا کہ اعلان کیا مَنْ اَنْصَارِى إِلَى اللهِ (الصف: 15) اور قرآن کریم نے جو اس ایک فقرے کو محفوظ فرمایا ہے یہ صاف بتا رہا ہے کہ حضرت مسیح کے دل میں شدید بے قراری پیدا ہوئی تھی اور اپنے آپ کو بے یارو مددگار پایا، چند کے سوا کسی نے ان کی تائید کا دعوی نہیں کیا۔اس وقت آپ نے یہ اعلان کیا مَنْ اَنْصَارِی إِلَى اللهِ کون ہے جو اللہ کی خاطر میری مدد کرے۔