خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 306
خطبات طاہر جلد 16 306 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997 ء رکھا جاتا ہے، ان کی عزت کی جاتی ہے ، ان کے بچوں کی عزت کی جاتی ہے، ان کے بچوں کو تحائف دینے ہوں تو اس سے بھی انسان گریز نہیں کرے گا بلکہ موقع ڈھونڈتا ہے کہ تحائف دے۔یہ اخلاق ہیں اور ان اخلاق کے دھوکے میں آکر جب کوئی ان سے سودا کر بیٹھتا ہے تو پھر اس کا جو مال ہے وہ جلدی سے جلدی ہڑپ کر کے اس سے چھٹی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر جب وہی شخص جس کو کہتے تھے آئے ، گھر آئیں ، سر آنکھوں پر ، جب دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو لگتا ہے کوئی دشمن اور واقعہ وہ دشمن ہی بن چکا ہوتا ہے، کوئی دشمن دروازے کھٹکھٹا رہا ہے اور اگر اس گھر کا دوسرا دروازہ ہو تو دوسرے دروازے سے انسان نکل کر بھاگتا ہے۔اس کا نام اخلاق ہے تو اس سے بڑی لعنت اور کوئی نہیں ہے۔یہ دھو کہ بھی ہے، بے حیائی بھی ہے۔انسانیت کے ادنی ادنی تقاضوں سے بھی گری ہوئی بات یہ ہے کہ انسان ، انسانی تعلقات میں اپنے اخلاق کو دھوکہ دینے کے لئے استعمال کرے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے استعمال کرے۔پس بظاہر بہت سے انسان آپ کو اخلاق والے دکھائی بھی دیتے ہیں مگر حقیقت میں ان کے اس کردار کو اخلاق کہا نہیں جاسکتا۔پھر روز مرہ کے ایسے انسان بھی دکھائی دیتے ہیں جو آپ سے براه راست کچھ نہ بھی چاہتے ہوں مگر ان کا حسن سلوک ، ان کی نرمی کی بات محض ایک سطحی بات ہے، ایک دکھاوا سا ہے اور جہاں کہیں بھی آپ کے مقاصد میں اختلاف ہو و ہیں وہ اپنے پر پرزے نکالتے ہیں اور بڑی بدتمیزی اور بدخلقی سے آپ سے معاملہ کرتے ہیں تو اخلاق جو ایک بنیادی صفت ہے، اخلاق کو اس کے اصلی معنوں میں سمجھنا اور اختیار کرنا یہ باخدا ہونے کے لئے ایک لازمی شرط ہے۔اتنی سی بات ہے، سادہ ہی، کیوں لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر آپ کسی کو جان لیں کہ وہ بد اخلاق ہے تو آپ تو اس کا اپنے گھر پر سایہ بھی نہ پڑنے دیں گے۔اس سے آپ دور بھاگتے ہیں ہمیشہ دور کی صاحب سلامت رکھتے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بد خلق انسان کو اپنے قریب کرلے اور اپنی صحبت میں بٹھائے کیونکہ یہ ایک دائی حقیقت ہے کہ وہ لوگ جو اچھے انسان ہوں وہ اچھی صحبت کو پسند کرتے ہیں اور اگر پتہ چلے کہ کوئی شریر انسان ان کی صحبت میں رہتا ہے تو اس کو دور کر دیتے ہیں۔پس اللہ تو ہر بات کا عالم ہے، ہر بات سے واقف ہے، ہر چیز سے باخبر ہے وہ ایسے انسان کو جو اخلاقاً بداخلاق ہواس کو اپنے قریب نہیں بٹھاتا، اپنے قریب نہیں کرتا۔تو اخلاق کو آپ سمجھتے ہیں معمولی بات