خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 292

خطبات طاہر جلد 16 292 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997 ء جو سمجھے بغیر انسان گناہ سے بچ سکتا نہیں۔گناہ کی محبت قائم رکھتے ہوئے انسان یہ دعا مانگے کہ میں گناہ سے بچ جاؤں یہ ایک جاہلانہ دعا ہے۔گناہ کی محبت کو بری نظر سے دیکھے اور اس محبت کے خلاف دعا کرے یعنی اپنے گناہوں کی حرص کو بددعا دے اور خدا سے یہ چاہے کہ یہ مجھے کیوں اچھا لگ رہا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ مجھے تو اس سے ایسا الگ کر دے کہ مجھے اس سے نفرت ہو جائے میں اس کا قرب برداشت نہ کر سکوں یہ دعا سب سے مشکل دعا ہے کیونکہ گناہ چاہت کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے اور چاہت کے خلاف دعا ہوئی بڑا مشکل کام ہے اس لئے انسان یہ کبھی دعا نہیں مانگتا کہ اے خدا یہ مجھے تمنا ہے مجھے فلاں چیز ملے اور یہ ہو اور وہ ہو یہ تمنا اٹھا دے میرے دل سے،اسے مٹادے یہ بڑا مشکل کام ہے۔انسان کہتا ہے مجھے تمنا تو ہے مگر تو مجھے معاف کر دے، مجھے تمنا تو ہے مگر میں گناہوں سے بچ جاؤں، بچ نہیں سکتا جب تک وہ تمنا نہ مٹ جائے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام یہ دعا سکھاتے ہیں ”گناہوں کی کثرت وغیرہ کا خیال کر کے دعا سے ہرگز باز نہ رہے۔دعا تریاق ہے آخر دعاؤں سے دیکھ لے کا کہ گناہ اسے کیسا برا لگنے لگا۔پس ہمیں اپنی روز مرہ کی زندگی میں آنکھیں کھول کر یہ جائزہ لینا چاہئے کہ کوئی ایسا گناہ ہے جو کل تک ہمیں پسند تھا آج برا لگنے لگا ہے اور اگر کوئی بھی نہیں تو اپنی تہی دامنی پر انسان واویلا کرے۔اس نے اپنی عمر بھر کی کوششوں کو گنوا دیا ہے۔وہ سمجھ رہا ہے کہ ہر رمضان میں خاص طور پر دعائیں کر کے اس نے بخشش طلب کی اور سارے گناہ بخشے گئے مگر جو بخشے گئے وہ دوبارہ کیسے زندہ ہو گئے کیونکہ ان کے دل میں نفرت نہیں پیدا ہوئی۔جب نفرت نہیں پیدا ہوئی تو ان کی زندگی کا بیج باقی رہا ہے اور وہ اگلے رمضان سے پہلے بلکہ پہلے رمضان کے معا بعد پھر پھوٹ پڑیں گے۔تو وہ زمیندار جو بیج نہیں مارتا جڑی بوٹیوں کا وہ اپنی فصل کی کبھی بھی حفاظت نہیں کر سکتا اس لئے بیج مارنا خواہشات کے خلاف دعا کرنا ہے۔دعا یہ کرے کہ اللہ ان کی محبت مٹادے اور پھر چند دن کے بعد آپ کی آنکھیں اس شعور کے ساتھ کھلیں گی کہ یہ چیز اب مجھے اچھی نہیں لگتی۔دل ہی نہیں چاہتا اس کو کرنے کو۔تو جب دل نہیں چاہے گا تو کتنا آسان ہے گناہ کو چھوڑنا پھر تو ایک طبعی تقاضے کے طور پر آپ کا گناہ از خود آپ کو چھوڑ دے گا۔آپ کو اسے چھوڑنے کا جو مشکل مضمون ہے وہ اتنی آسانی سے حل ہو جائے گا۔فرماتے ہیں: جو لوگ معاصی میں ڈوب کر دعا کی قبولیت سے مایوس رہتے ہیں