خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 286
خطبات طاہر جلد 16 286 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997 ء بدن سے نکال کر ایک گندگی کے طور پر اس سے خارج کر دیتے ہیں اور یہ عمل جاری عمل ہے۔پس بدیاں جو ہیں ان پر نیکی نے بہر حال غالب آنا ہے۔اگر نیکی کی صفات حقیقۂ موجود ہوں، اگر نیکی کی تعریف صادق آتی ہو تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک صالح وجود پر غیر صالح وجود غالب آجائے۔پس جو دوسرا دور ہے اس میں یہ معنی نہیں ہے کہ گویا اب خدا نے قانون بدل دیا ہے۔اب نیکی پر بدی غالب آنے لگی ہے۔وہ مضمون یہ ہے کہ نیکی نہیں رہی اور خلا نہیں ہوسکتا۔جہاں سے نیکی چلی جائے گی اس کا ایک طبعی عمل ہے، یہ قانون قدرت کا ایک طبعی عمل ہے کہ خلا رہ نہیں سکتا جہاں سے نیکی اٹھے گی بدی آکر اس جگہ براجمان ہو جائے گی ، اس جگہ پر قبضہ کرلے گی۔تو اپنی زندگی کی حفاظت کرنی ہے اور نسلاً بعد نسل حفاظت کرنی ہے تو یہی ایک راز ہے جو قرآن کریم نے ہمیں سمجھایا کہ ایمان لاؤ تو بہ کرو جو سچی توبہ ہے۔سچی توبہ کے بعد اپنی بدیوں کو اپنے زیر نظر رکھو اور امید رکھو کہ خدا دور فرمائے گا تم میں طاقت نہیں مگر دعا کے ذریعے اس جہاد کا آغاز کرو، دعاؤں کے ذریعے خدا تعالیٰ سے مدد مانگو کہ وہ تمہاری بدیاں دور کرنی شروع فرما دے اور طریق یہ سکھا دیا کہ جو عمل تمہیں بتایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اپنی نیکیوں کے ذریعے اپنی بدیوں کو دور کرو یعنی نیکیاں بڑھاؤ تو بدیاں دور ہوں گی۔تو یہ ایک مثبت عمل ہے جس کی طرف بلایا جارہا ہے یہ مثبت عمل جب جاری ہوگا تو آپ میں برکت پڑے گی۔یعنی آپ کے وجود میں ایک ایسی توانائی پیدا ہوگی جو پہلے نہیں تھی کیونکہ نیکیوں کے بغیر کوئی توانائی نہیں ہے آپ کے اندر ایک روحانی زندگی پیدا ہونی شروع ہوگی جس میں جان پڑ جائے گی جو اس طرح نشو و نما پائے گی جس طرح چھوٹا بچہ صحت مند ماحول میں تربیت پاتا ہوا آگے بڑھتا ہے بلند ہوتا ہے اور اس کی ہر صلاحیت پہلے سے زیادہ طاقت پا جاتی ہے، تنومند ہو جاتی ہے۔تو صلاحیتوں کی نشو ونما کا نام ہے بدیوں کا دور ہونا کیونکہ وہ نشو ونما حسن اور نیکیوں کے ذریعے ترویج پاتی ہے اور اس وجہ سے بدیوں کا دور کرنا ایک مثبت عمل کا دوسرا نام ہے، محض ایک منفی کوشش نہیں ہے۔اس کوشش میں ہم کیسے داخل ہوں اور کیسے اس سے بھر پور فائدہ اٹھائیں اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو تو بہ کا فلسفہ بیان فرمایا ہے اس کا سمجھنا ہمارے لئے بہت عمد اور مفید ثابت ہوگا اور دوسرا یہ کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اپنی بدیوں کو تاک کر نشانے بنانا یہ ایک باشعور کام ہونا چاہئے۔یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ از خود یہ سلسلہ شروع ہو جائے گا۔جب خدا نے