خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 285
خطبات طاہر جلد 16 285 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997 ء پس اگر کسی کی تبلیغ کی راہ میں کوئی روک حائل ہے اور پھل نہیں لگ رہے تو دیکھیں کہ اس کے اندر کوئی ایسی بدیاں تو نہیں جو اس کی نشو ونما کی راہ میں حائل ہوگی ہیں ورنہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ یہ وعدہ کرے اور پھر پورا نہ فرمائے کہ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ضرور بڑھاتا ہے۔تو محض نیکیاں بڑھانے کا مضمون نہیں بلکہ ایسے لوگوں کے نفوس میں برکت دیتا ہے ان کی تعداد بڑھتی ہے جیسا کہ آنحضرت بہ کے ساتھ ہوا جو ہر نبی سے ہوتا رہا مگر جس شان کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے ساتھ ہوا ویسا اور کسی نبی کے ساتھ نہیں ہوا کہ آپ اکیلے تھے اورکس تیزی کے ساتھ کثرت میں تبدیل ہونے لگے اور آپ کا حسن دوسروں میں سرایت کیا ہے تو آگے بڑھے ہیں، اس کے بغیر آگے نہیں بڑھے۔کوئی بھی اسلام کی نشو ونما اور تیزی سے پھیلنے کی حقیقت اس کے سوا نہیں ہے کہ یہ حسن محمد تھا جس نے عرب کی فتح کی ہے اور پھر وہی فتح تھی جو باقی ملکوں پر بھی پھیل گئی۔آنحضرت ﷺ کی سیرت کے حسن کے بغیر جو فتح تھی، وہ عسکری فتح تھی اس نے کوئی بھی دیر پا صلاحیت مومنوں میں پیدا نہیں کی بلکہ بعض اس زمانے کے لوگوں کو پہلے سے بدتر حالتوں میں وہ فتوحات چھوڑ گئیں اور جو اعمال میں رہی سہی خوبیاں تھیں ان کو بھی وہ کھا گئیں، ظالم بادشاہ پیدا ہوئے۔چنانچہ اسی لئے آنحضرت علیہ نے جو مسلمانوں کے تنزل کی دردناک کہانی بیان فرمائی ہے وہاں خلافت کے بعد ملوکیت اور ملوکیت کے بعد پھر ظلم کی حکومت کا ذکر فرمایا ہے۔پس جب خلافت راشدہ نہ رہے تو جو حکومت قائم ہوتی ہے وہ سچائی کی حکومت نہیں بلکہ ایک سیاسی حکومت ہے جس میں سچائی کے کچھ اثرات باقی رہتے ہیں لیکن زیادہ دیر تک رہ نہیں سکتے کیونکہ جب یہ عمل جاری نہ رہے کہ حسن سے بدیوں کو دور کرو اس وقت تک برعکس جو عمل سے وہ شروع ہو جاتا ہے یعنی بدیاں نیکیوں کو کھانے لگتی ہیں کیونکہ ان نیکیوں میں جان نہیں ہوتی ، وہ کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہیں۔وہ شخص جس میں دفاع کی طاقت نہ ہو اس کو جراثیم کھاتے ہیں۔جس میں دفاع کی طاقت ہو وہ بدن تو جراثیم کو کھا جاتا ہے اور روزمرہ یہی ہو رہا ہے ہمارے بدن میں۔لاکھوں کروڑوں بلکہ اربوں قسم کے جراثیم ہیں جو ہم پر ہمیشہ حملہ آور رہتے ہیں اور بدن ان کو کھا جاتا ہے یعنی ان کو غارت کر دیتا ہے۔گویا ان کے گرد ایسے سپاہی لپٹ جاتے ہیں جو ان کو کھا کر اگر چہ اپنی جان بھی ساتھ فدا کرتے ہیں مگر ان کو