خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 266 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 266

خطبات طاہر جلد 16 266 خطبہ جمعہ 11 اپریل 1997ء اگر نظر کو انسانی زندگی سے آپ نکال لیں تو انسانی علمی ترقی کروڑوں سال پیچھے کی طرف لوٹ جائے گی یعنی انسان بننے سے پہلے کی حالتوں سے بھی پیچھے چلی جائے گی۔اگر سماعت کو انسانی زندگی سے نکال لیں تو انسانی زندگی اونی حالتوں کی طرف لوٹ جائے گی مگر محض سماعت مقصود نہیں تھا۔جب ایک انسان نے نہ سنے کی وجہ سے تکلیفیں اٹھا ئیں تو اس کا نہ سننا ایک بیماری بن گیا۔اس بیماری سے شفا کے لئے اس کو جو جد و جہد کرنی پڑی ہے یہ ہے وہ تریاق جو بن رہا ہے اور وہ تریاق بالآخر سماعت کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور سننے کی قوت نے انسان کو پھر وہ کچھ عطا کیا ہے کہ جو محض ابتدائی مصیبتوں سے بچنے تک اس کے کام نہیں آیا اس کو بہت آگے بڑھا کے لے گیا ہے۔اگر یہیں تک بات رہتی تو پھر بھی ہم کہہ سکتے تھے کہ فائدہ کیا ہوا اس مصیبت میں ڈالنے کا، پہلے ہی سماعت عطا کر دیتا، پہلے ہی وہ سنے کی طاقت عطا کر دیتا مگر وہ جو درجہ بدرجہ ترقی کی روح ہے وہ پہلے سے عطا ہوئی سننے کی طاقت اور دیکھنے کی طاقت سے نصیب نہیں ہو سکتی تھی۔ایک حرکت میں آیا ہے انسان یا زندگی ایک حرکت میں آئی ہے وہ بیماری کا گناہ ، لاعلمی کا گناہ، جہالت کا گناہ، یہ وہ گناہ ہیں جن سے بچنے کے لئے اس نے جو جدوجہد کی ہے اس میں جس طرح گولی بندوق کی لمبی نالی میں زیادہ دیر تک سیدھا چلتی ہے ایک ارب سال کی مسافت نے اس کی ترقی کی راہ کوسیدھا کیا اور ایسی قوت بخشی ہے کہ یہاں پہنچ کر وہ خدا کی طرف اڑان کی تمنا لے کر اس کی طرف اڑنے کی صلاحیت حاصل کر گیا ورنہ نہ یہ تمنا پیدا ہوتی نہ یہ صلاحیت پیدا ہوسکتی تھی۔تو ایسا وجود جو اندھا ہو، بہرہ ہو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو غور کیوں نہیں کرتے کہ اچانک یہ کیا ہوا کہ سَمِيعًا بَصِيرًا (النساء : 59) بن گیا ، وہ سنے والا بھی ہو گیا اور دیکھنے والا بھی ہو گیا۔اس میں کیا سبق ہے؟ یہی سبق ہے کہ یہ ان کمزوریوں سے نجات جس محنت کے نتیجے میں اس کو حاصل ہوئی ہے اسی محنت کے نتیجے میں پھر اور آگے بڑھا ہے اور خدا تعالیٰ تک پہنچے کی توجہ پیدا ہوئی اور صلاحیت نصیب ہوئی۔پس اس مضمون کی روشنی میں جب آپ استغفار اور تو بہ کو دیکھتے ہیں تو یہ ساری تکلیفیں، یہ ساری مشکلات جو اس راہ میں ہیں ان کا جواز دکھائی دینے لگتا ہے اور پھر اس آیت کریمہ کی زیادہ سمجھ آتی ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔یايُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلْقِيهِ (الانشقاق : 7) اے انسان تجھے خدا تک جانے کے لئے بڑی محنت کرنی پڑی ہے اور بڑی محنت کر رہا ہے اور یہ محنت