خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 235
خطبات طاہر جلد 16 235 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء کھول کر ہمارے سامنے رکھ رہی ہیں۔چنانچہ دراصل تو ان کو تیری ضرورت ابھی بھی ہے تیرے گرد اکٹھے ہو گئے ، تیرے مددگار بن گئے مگر ان کو توفیق ہی نہیں مل سکتی ان اعلیٰ تقاضوں کو پورا کرنے کی جو تیری مدد کے تقاضے ہیں۔کمزوریاں ہیں اور کئی ایسی باتیں ہیں جن کے نتیجے میں ان کے لئے ٹھوکر کے سامان ہیں کئی بد اخلاق لوگ ہیں اسی طرح آگئے ہیں۔فَاعْفُ عَنْهُمْ ان کے ساتھ صرف نظر فرما، گزارا کر ان کے ساتھ اور کئی چھوٹی موٹی باتیں جو تکلیف دہ ان کی طرف سے پیدا ہوتی رہتی ہیں تو عظمت اور حوصلے والا انسان ہے تو جہاں تک ہو سکتا ہے ان سے صرف نظر فرمالیکن ان معنوں میں صرف نظر نہ ہو کہ بے شک یہ برائیاں قائم رہیں۔وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ اللہ سے دعا مانگ، اس سے مغفرت طلب کر کہ اے اللہ ان کی برائیاں دور فرمادے اور ان سے بخشش کا سلوک فرما اور مشورہ ان سے مانگ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ لیکن فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ مشوره ان سے مانگ لیکن فیصلہ تو نے کرنا ہے کیونکہ جو بصیرت تجھے خدا نے عطا فرمائی ہے وہ تعلق بالله کے سوا نصیب ہو ہی نہیں سکتی۔پس مدد اس لئے نہیں ہے کہ اللہ مددگار نہیں ہے اور مشورہ اس لئے نہیں ہے کہ اللہ مشیر نہیں ہے، یہ دونوں ایک ہی قسم کے مضمون ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھ تو مدد مانگتا ہے تو انحصار تو ان پر نہیں ہے نا۔تو مشورہ بھی مانگ ان کو اس میں بھی حصہ دے لیکن فیصلہ تو نے کرنا ہے کیونکہ تو خدا کی نظر سے دیکھتا ہے ، تقویٰ کی نگاہ سے فیصلے کرتا ہے اور اس کے باوجود یہ مشورہ بے کار بھی نہیں کیونکہ انسانی پہلو سے جب ہزار یا لا کھ کا کام ایک نہیں کر سکتا تو ہزار یالا کھ خدا مہیا کر دیتا ہے۔اسی طرح ایک نبی کی سوچ بھی بہت سے ایسے امور پر حاوی نہیں ہوتی جو اس کے علم سے باہر ہیں تو یہ کہ دینا کہ کلیہ بے ضرورت ہے یہ بھی غلط ہے۔مگر فرمایا کہ وہ سارے امور جوان سب کے علم میں ہیں جن میں سے ہر بات تیرے علم میں نہیں جب وہ تیرے حضور پیش کر دیئے جائیں تو انہی باتوں سے فیصلہ کرنا تیرا کام ہے کیونکہ ان لوگوں کی عقلیں ایسی تیز نہیں ہیں، نہ یہ ایسے متقی ہیں کہ ہر فیصلے میں خدا کو پیش نظر رکھیں یعنی تیرے ہم مرتبہ نہیں ہیں اس معاملے میں۔پس وہی Data یعنی وہ کوائف، وہ اعداد و شمار جن پر ایک انسان فیصلے کرتا ہے اگر ذہین ہو، اعلیٰ درجے کا ہو تو اس کا فیصلہ انہی کوائف پر ہمیشہ درست ہو گا ہمیشہ بہتر ہوگا۔اس میں ڈیما کریسی یا