خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 15
خطبات طاہر جلد 16 15 خطبہ جمعہ 3 /جنوری 1997ء ہے کہ ذمہ واریاں بہت بڑی ہیں جن کو آسمانوں نے اور زمین نے اور پہاڑوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا وَ حَمَلَهَا الْإِنْسَانُ (الاحزاب: 73) محمد رسول اللہ ﷺ کو دیکھو آگے بڑھے اور سارے بوجھ اٹھالئے اور سارے بنی نوع انسان کو تعلیم دینے کا اور ان کے لئے نمونے قائم کرنے کا بوجھ اتنا بڑا بوجھ ہے کہ اس کے تصور سے بھی انسان کانپ اٹھتا ہے اور اس معاملے میں آپ فرماتے ہیں میں پوچھا جاؤں گا، آپ نے ہر ایک کو کہا کہ جس دائرے میں تم نگران بنے ہو دائرے کی وسعت اور مقام کی عظمت کے ساتھ ساتھ ذمہ داریاں بھی تو بڑھتی ہیں اور جہاں تم نا کام ہو گے تم سے سوال کیا جائے گا۔پس انفرادی بحث الگ ہے اور اجتماعی ذمہ داریوں کی بحث الگ ہے۔میں آپ کو خاندانی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتا ہوں اپنے اہل و عیال کے اخلاق پر گہری نظر رکھنا اور اپنے ہی اخلاق پر نہیں ان کے اخلاق پر بھی لمحہ لحہ نگاہ ڈالنا کہ کس طرف کو چل رہے ہیں اور اگر آپ کو اپنے اخلاق ہی کی ہوش نہیں تو ان کے اخلاق پر کیسے نظر ڈال سکیں گے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو توجہ دلائی ہے مختلف نصیحتوں کی صورت میں ان میں انصاف کے مضمون کو بھی چھیڑا ہے، اس میں انتقام کے مضمون کو بھی لیا ہے، عفو کے مضمون کو بھی چھیڑا ہے۔اس میں سے چند اقتباس پڑھنے کا وقت ہے تا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاک کلام پر یہ خطبہ ختم ہو۔ایک چیز تو بدی کا بدلہ دینا اور عفو کرنا گھر میں اگر ان کا توازن بگڑے تو اس سے پھر تربیت میں ایک فساد برپا ہو جاتا ہے اور یہ مضمون قرآن کریم نے سارے معاشرے کے تعلق میں بیان فرمایا ہے جس کو بطور خاص اپنے گھر میں ملحوظ رکھنا ہر احمدی کا فرض ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: بدی کا بدلہ اسی قدر بدی ہے جو کی گئی لیکن جو شخص عفو کرے اور گناہ بخش دے اور اس عفو سے کوئی اصلاح پیدا ہوتی ہو، نہ کوئی خرابی تو خدا اس سے راضی ہے اور اسے اس کا بدلہ دے گا۔پس قرآن کی رو سے نہ ہر ایک جگہ انتقام محمود ہے اور نہ ہر ایک جگہ عفو قابل تعریف ہے بلکہ محل شناسی کرنی چاہئے اور چاہئے کہ انتقام اور عفو کی سیرت با پا بندی محل اور مصلحت ہو، نہ بے قیدی کے رنگ میں۔یہی قرآن کا مطلب ہے۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ: 30)