خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 14

خطبات طاہر جلد 16 14 خطبہ جمعہ 3 /جنوری 1997ء نوح کی پوری کوششوں کے باوجود وہ اولا دایسی نکلی۔مگر ایک چیز ضرور تھی کہ حضرت نوح اس پر تفصیلی نظر نہیں رکھ سکے تھے۔یہ بھی ایک لطیف غفلت کی قسم ہے اور خدا کا انصاف ایسا کامل ہے کہ اس کی سزا بھی دیتا ہے پھر۔چنانچہ حضرت نوح کو جو دکھ پہنچا ہے بیٹے کو غرق ہوتا ہوا دیکھ کر وہ ان کے لئے ایک سز اتھی اور اتنی بڑی سزا کہ بول اٹھے کہ اے خدا تو نے تو وعدہ کیا تھا کہ میری اولا دضائع نہیں کی جائے گی۔تب خدا نے فرمایا کہ تجھے پتا نہیں یہ تیری اولا دوہ اولاد نہیں ہے جس کے لئے میں نے حفاظت کا وعدہ فرمایا تھا۔تو غفلت ہوئی، جرم کے طور پر اس کی سزا تو نہیں ملی مگر فطری تقاضوں کے نتیجے میں سزا ضرور مل جاتی ہے۔پس جن لوگوں کا میں نے ذکر کیا ہے کہ اپنی آنکھوں کے سامنے وہ غفلت میں اپنی اولا دوں کو ضائع کرتے ہیں ان کے لئے مختلف قسمیں اور درجے ہیں۔کچھ تو غافل ان معنوں میں ہیں کہ ان کو پرواہ ہی کوئی نہیں وہ سمجھتے ہیں میں اپنی ذات کا ذمہ وار، مجھے کوئی فکر نہیں۔اولا د آزاد ہے جو چاہے کرے میں کیوں کسی کے معاملے میں دخل دوں۔انہوں نے انصاف کا یہ ایک چر بہ بنارکھا ہے اور حقائق سے دور ہیں۔جب وہ بچہ فیل ہوتا ہے سکول میں، ان کو فکر ہوتی ہے۔جب وہ ایسا رستہ اختیار کرتا ہے کہ دنیا میں اس کی صلاحیتیں ضائع ہوں تو بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔اس کو ٹھیک کرنے کے لئے پورے خرچ کرتے ہیں۔تو ان کا ایک عمل ان کے دوسرے عمل کو جھٹلا رہا ہے۔ثابت کر رہا ہے کہ یہ غفلت کی حالت ہے۔یہ کوئی شرافت نہیں ہے، انصاف نہیں ہے، یہ ضمیر کی آزادی نہیں ہے۔ضمیر کی آزادی تم وہاں دے رہے ہو جہاں اس کا نقصان ہو رہا ہے، جہاں روحانی نقصان ہو رہا ہے۔اور جہاں دنیاوی نقصان ہے وہاں تم اس کو ضمیر کی آزادی نہیں دیتے تو اس کا نام تم نے انصاف کیسے رکھ دیا۔تو اخلاقی حالتوں کی طرف واپس آنے میں اندرونی گھر یلو حالتیں ہیں ان پر نگاہ رکھنا بہت ہی ضروری ہے۔اپنی ساری اولاد کی طرف نظر رکھیں، اپنی بیوی کی طرف نظر رکھیں ، اپنے بچوں، ان کے بچوں کی طرف نظر رکھیں اور غافل نہیں ہونا کیونکہ آپ سب کو ایک اکائی کے طور پر بھی دیکھا جائے گا۔انفرادیت کے لحاظ سے ہر شخص اپنا جواب دہ الگ ہے۔لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى (الانعام:165) کوئی بھی جان نہیں ہے جو کسی اور جان کے لئے ذمہ وار قرار دی جائے اس کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔مگر بعض بوجھ ہیں جو قو می بوجھ ہیں جیسے انبیاء کے بوجھ ہیں ، وہ بڑے عظیم قو می بوجھ ہوتے ہیں۔آنحضرت ﷺ نے ہر بوجھ اٹھانے والے سے بڑھ کر بوجھ اٹھالیا۔ان معنوں میں یہ بوجھ