خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 200
خطبات طاہر جلد 16 200 خطبہ جمعہ 14 / مارچ 1997ء کرتے تھے اور آئے دن یہ نہیں کہتے تھے کہ لوجی ہماری تو دعا قبول نہیں ہوئی اور دوسرے یقین رکھتے تھے کہ خدا تعالیٰ تبدیلی کر سکتا ہے اس لئے تبدیلی نہ بھی نظر آئے تو ایمان نہیں جاتا تھا ان کا اور صبر کر کے وہ دعا کرتے چلے جاتے تھے۔حضرت زکریا کی دعا دیکھو کتنی عظیم الشان ہے۔وہ کہتے ہیں دعائیں کرتے کرتے میں بوڑھا ہو گیا ہوں، ہڈیاں گل گئیں، سر بڑھاپے سے آگ کی طرح بھڑک اٹھا ہے، سفید ہو گیا ہے وَلَمْ أَكُن بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّا (مریم:5) اے خدا آج تک میں وہ بد بخت نہیں جو تیری دعا سے مایوس ہو جاؤں کبھی مایوس نہیں ہوا۔یہ ہے صبر جو بعض دفعہ اتنا لمبا کھینچا جاتا ہے جس طرح حضرت زکریا کا ذکر ہے مگر روزمرہ کی زندگی میں اتنے لمبے امتحان خدا نہیں لیا کرتا۔انبیاء کے مناصب بلند ہیں، ان کے امتحان بھی بڑے کڑے ہوا کرتے ہیں اور بعض دفعہ لمبے چل جاتے ہیں مگر نیا نیا خدا کا مہمان بن رہا ہو اس کے ساتھ خدا اتنے لمبے معاملے نہیں کیا کرتا۔شروع شروع میں دعائیں جلدی قبول ہوتی ہیں پھر جب انسان آگے ترقی کرے تو پھر پور اصبر کے مضمون میں داخل ہو جاتا ہے۔تو یہ دعا بہت ہی اہم ہے کیونکہ اس کے بغیر ہمارا معاشرہ تبدیل نہیں ہو سکتا اور اس کے بغیر عبادت کا لطف بھی نہیں آسکتا۔عبادت کا لطف اس ماحول میں ہی ہے جو ماحول یہاں بیان فرمایا گیا ہے۔نیک ماحول ہے ایک دوسرے کی نیکیاں اچھی لگتی ہیں ایک دوسرے کی نیکیاں دیکھنے کو دل چاہتا ہے، ان نیکیوں کے لئے دعائیں کرتے وقت گزرتا ہے پھر جب وہ عطا ہوتی ہیں تو جتنا نیک ہو کوئی ساتھی اتنا زیادہ اس سے پیار بڑھ جاتا ہے اتنی ہی زیادہ اس کی دل میں قدر بڑھتی چلی جاتی ہے۔فرمایا خُلِدِین فیھا یہ وہ حالت ہے جو ہمیشہ کی ہے اتفاقی آئی گئی حالت کا نام نہیں ہے۔یہ حالت تو آ کر ٹھہر جانے والی ہے اور صبر کے ساتھ اس مضمون کا گہرا تعلق ہے۔صبر کا مطلب ہے جتنا لمبا چاہے اللہ آزمائے ، ہٹنا نہیں اور جب انسان استقامت دکھا دے،صبر دکھادے تو خدا کیسے اس کی جزا کو عارضی بنا سکتا ہے۔پس دائمی جزا کا صبر سے ایک گہرا تعلق ہے۔فرمایاوہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا کیا ہی عمدہ، کیا ہی خوب صورت عارضی ٹھکانہ اور کیا ہی خوب صورت مستقل ٹھکانہ ہے۔اس سے پہلے بھی اسی طرح ٹھکانے کا ذکر گزرا ہے۔سَاءَتْ مُسْتَقَرًّا وَمُقَامًا ( الفرقان : 68) کہ وہ لوگ جو اس مضمون کو