خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 182
خطبات طاہر جلد 16 182 خطبہ جمعہ 7 / مارچ 1997ء پس فرمایا تمہارے ایمان کی اصلاح ضروری ہے جو بچی تو بہ سے ہوگی۔بچی تو بہ کرو اور پھر جو تمہارا ایمان نصیب ہوگا وہ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا تک تمہیں پہنچا دے گا کہ ایسا شخص پھر لازم ہے کہ نیک اعمال بجالائے گا۔یہ وہ لوگ ہیں فاوليك يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيَاتِهِمْ حَسَنَتٍ جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ حسنات میں تبدیل کرنا شروع کر دے گا۔اب دیکھ لیں وہی بات جو میں آپ سے عرض کر چکا ہوں پہلے بھی کہ اپنی برائیوں کو خود تبدیل کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے، بہت ہی مشکل کام ہے لیکن فیصلہ کرنا اور یہ ارادہ کر لینا کہ ہم نے آج اپنی زندگی میں ایک تبدیلی پیدا کرنی ہے یہ آغاز ہر انسان کے دل سے ہونا چاہیئے اس کے بغیر خدا تعالیٰ کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرے گا۔فرمایا ایک فیصلہ کرو اور اس کی سچائی کو اپنے عمل سے ثابت کرنے کی کوشش کرو۔تو پہلے ہے وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا اس سے مراد یہ ہے نیک اعمال بجالانے کی کوشش کرے گا کیونکہ بعد کی آیت یہی مضمون کھول رہی ہے۔پس ہر وہ شخص جو ایسی تو بہ کرے گا کہ اس کے بعد نیک اعمال بجالانے کی کوشش کرتا ہے فَإِنَّهُ يَتُوبُ اِلَى اللهِ مَتَابًا۔تو وہ ہلکی پھلکی تو بہ نہیں کیا کرتا۔وہ تو اپنے رب کی طرف تو بہ کرتے ہوئے جھپٹ پڑتا ہے۔اس تیزی سے الٹ پڑتا ہے اس طرف کہ جیسے آنا فانا کوئی واقعہ ہو گیا ہو۔تو جو خدا تعالیٰ کی عظمت کو پہچان لے اور عذاب کی حقیقت کو جان لے وہ پھر ٹالا نہیں کرتا تو بہ کو کہ اچھا آج میں اتنا سا کرلوں گا، کل میں اتنا کروں گا۔یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کی حفاظت کی گود میں آجاتے ہیں فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللهِ مَتَابًا وہ تو اللہ کی طرف تو بہ کرتے ہوئے الٹ پڑتے ہیں۔پھر فرمایا وَ الَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَ إِذَا مَرُ وا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا - جو مَتَابًا کا مضمون ہے یعنی بے محابا تو بہ۔ایک دم گویا ایک زلزلہ سابر پا ہو گیا ہوا یسی تو بہ، اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض باتیں لازم ہوں گی اور بعض علامتیں ظاہر ہوں گی۔اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ میں نے وہ توبہ کرلی ہے جس کا دوسرا نام توبة النصوح بھی ہے تو اس توبۃ النصوح کے بعد پھر یہ علامتیں ظاہر ہونی چاہئیں۔وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَ إِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا لَه وہ جھوٹ کا منہ تک نہیں دیکھتے۔وَالَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُونَ الرُّوْر کا ایک ترجمہ یہ بھی کیا جاتا ہے کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔میرے نزدیک یہاں موقع جھوٹی گواہی کا نہیں بلکہ وہی معنی ہے جیسے