خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 181 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 181

خطبات طاہر جلد 16 181 خطبہ جمعہ 7 / مارچ 1997ء تک ذلیل و خوار پڑا رہ جائے گا إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا سوائے اس کے جو تو بہ کرے اور ایمان لائے اور وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا اور نیک اعمال بجالائے فَأُوتيك يُبَدِّلُ اللهُ سَيَاتِهِمْ حَسَنَتٍ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا۔سوائے اس کے کہ کوئی شخص تو بہ کرے اور ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے فاو لیکكَ يُبَدِّلُ اللهُ سَيَاتِهِمْ حَسَنَتٍ تو یہ وہی لوگ ہیں جن کی بدیوں کو حسنات میں اللہ تعالیٰ تبدیل فرمادے گا۔وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم فرمانے والا ہے۔وہ لوگ جن کو یہ وعدہ دیا گیا کہ ان کا عذاب بڑھایا جائے گا اور بہت شدید عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے ان کے متعلق فرمایا إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَيكَ يُبَدِّلُ اللهُ سَيَاتِهِمْ حَسَنَتٍ یہ جو مضمون ہے اب عِبَادُ الرَّحْمٰن سے تعلق نہیں رکھتا۔یہاں وَلَا يَزْنُونَ والا جو حصہ ہے جو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں زندگی اور موت پہ قابض بن بیٹھتے ہیں اب کچھ ان کے متعلق باتیں شروع ہوگئی ہیں۔فرمایا اگر تم ان میں سے ہو تو عبادالرحمن سے تو تمہارا کوئی دور کا بھی تعلق نہیں رہا پھر یا درکھنا تم سے یہ سلوک کیا جائے گا اور وہ سلوک یہ ہے کہ عذاب بڑھایا جائے گا اور بہت ہی بری حالت میں تم رہو گے وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا اس میں ذلیل حالتوں میں مدتوں اسی طرح پڑے رہو گے۔لیکن اس سے بچنے کا ایک طریق ہے جو تمہارا رستہ موڑ دے گا اور پھر تم عِبَادُ الرَّحْمٰنِ کی طرف واپس رخ کر سکتے ہو تو یہ ایک Deviation ہے رستے کی جس سے متنبہ فرما دیا گیا۔اللہ کے رستے پر چلتے ہوئے یہ حرکتیں نہ کر بیٹھنا ورنہ تمہارا انجام بہت برا ہوگا۔واپس خدا کی طرف جانا ہے اگر اس طرف سے جہاں تم جاپہنچے ہو غلطی سے، تو یہ شرط ہے کہ تو بہ پھر کرنی ہوگی اور نیک اعمال، ایمان دوبارہ لانا ہوگا۔تو بہ کے بعد ایمان یا ایمان کے بعد تو بہ یہ مضمون ہے جو یہاں کھلنا چاہئے۔ایک ایمان سرسری ہوا کرتا ہے جس سے ساری بات شروع ہوئی ہے اور ایک ایمان ہے جو حقیقی ہوتا ہے۔تو جو تو بہ کر کے ایمان لاتا ہے مراد یہ ہے کہ تو بہ کر کے اپنے ایمان کی سچائی کو ثابت کرتا ہے ورنہ اگر حقیقی ایمان نہ ہو خدا تعالیٰ کے صاحب اختیار ہونے پر اور جہنم کے حق ہونے پر تو ایسا ایمان اس کو تو بہ کرنے دے گا ہی نہیں۔