خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 139
خطبات طاہر جلد 16 139 خطبہ جمعہ 21 فروری 1997ء آسان ہو نہیں سکتا، اس پر عمل ممکن نہیں ہے جب تک میرے پیچھے نہ چلو کیونکہ میں نے عشق کی راہوں پر قدم مارے ہیں اور ہر منزل کو آسان کر دیا ہے۔ہر فاصلہ میرے پیچھے چلنے سے چھوٹا دکھائی دے گا اور آسان ہوتا چلا جائے گا۔اب یہ جو آسانی کا مضمون ہے یہ عشق کے بغیر حل ہو ہی نہیں سکتا۔عشق ہے جو ایسی دیوانگی بخش دیتا ہے کہ آدمی تیشہ پکڑ کے ساری عمر اس بات میں گنوا دیتا ہے کہ ایک چٹان کو توڑے، کاٹتا چلا جائے یہاں تک کہ اس سے وہ ایک دریا بہا دے۔اب وہ دریا تو نہیں بہا سکتا تھا مگر اسی تیشے سے کھودتے کھودتے وہ مرجاتا ہے اسی حالت میں۔تو آنحضرت ﷺ کی محبت ایک ہی راہ پر ملتی ہے اور خدا کی محبت پر پہنچنا اصل مقصود ہے۔محمد رسول اللہ ﷺ کی محبت آپ کا ہاتھ پکڑ کر ان راہوں پہ چلائے گی جو بلا استثناء آخر خدا تک پہنچاتی ہیں۔اب واپس آپ گناہ کے مضمون کی طرف جائیں پھر دیکھیں کہ اس کا اس سے کیا تعلق بنتا ہے۔بات تو سمجھ آگئی مگر عمل کیسے شروع ہوگا۔وہی چوہوں والی بات نہ ہو جائے کہ جب ایک خونخوار بلی چوہوں پر بہت ظلم کیا کرتی تھی ، بڑے حملے کیا کرتی تھی تو سوچا گیا کہ آخر کس طرح اس مسئلے کا حل کریں تو ایک چوہے کو ایک بڑی اونچی بات سوجھی۔اس نے کہا بڑی آسان بات ہے بلی کی گردن میں ایک گھنٹی لٹکا دو جب وہ آئے گی اس کی گھنٹی کی آواز آجایا کرے گی اور ہم وقت پر اپنے بلوں میں گھس جائیں گے کوئی مشکل کام نہیں۔بڑی چوہوں نے داد دی واہ واہ سبحان اللہ کیا بات کر گئے ہو۔پھر کسی کو خیال آیا کہ لٹکائے گا کون ؟ اب وہاں جا کے مارے گئے سارے۔گناہوں سے توبہ کا فیصلہ کرنا ہی بلی کی گردن میں گھنٹی لٹکانے والی بات ہے اور محبت کی راہوں پر قدم مارنا اگر انسان شعور کے ساتھ مفہوم کو نہ سمجھے تو بالکل وہی بات ہے کہ آہا بہت آسان ہو گیا لیکن جب چلو تو پھر مشکل۔بڑی مشکل وہ دوسری طرف کی کشش ہے جو انسان کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔ایک قدم آگے جائے تو دو قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔اس کشش کو کیسے توڑا جائے یہ وہ بنیادی سوال ہے کیونکہ یہ محض فلسفے کی باتیں نہیں ہیں۔قرآن کریم تو گہرے حکمت کے راز پیش کرتا ہے، بڑے بڑے مشکل مسائل حل فرماتا ہے اور بتاتا ہے کہ کیا کرو اور کیا نہ کرو اور جوکر ووہ اس طرح کرو تو آسان ہو جائے گا۔جو نہ کرو اس سے بچنا ہے تو یہ طریق اختیار کرو تو بچ جاؤ گے اور پھر طریق کو آسان کر کے دکھاتا ہے۔اب سب سے پہلے تو آنحضرت ﷺ کی زندگی پر غور اور فکر کی ضرورت ہے اور آنحضرت