خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 124
خطبات طاہر جلد 16 124 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء اس کا یہ ہے۔ساخرین کا تعلق لازم نہیں کہ وحی الہی سے ہو، ساخرین کا ایک تعلق عام روز مرہ کے معاملات میں اصلاح کی طرف متوجہ ہونے سے بھی ہے اور ساخرین ان معنوں میں وہ تمسخر والے معنی بھی رکھتے ہیں کہ ہنس کھیل کر ہم نے دنیا کو چھوڑا۔ان باتوں کو، دین کی باتوں کو معمولی سمجھا اور ہنسی ٹھٹھے میں وقت ضائع کر دیا کوئی اہمیت نہ دی دین کی باتوں کو۔اب جب وقت آ گیا عذاب کا اب اس سے بچ نہیں سکتے۔یہ جو عمومی مضمون ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ پہلی دونوں آیات کی طرف ایک کے بعد دوسری کی طرف توجہ دیتا ہے اسی ترتیب کے ساتھ اَوْ تَقُوْلُ لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدْينى لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ یا اس وقت یہ کہو کہ کاش مجھے اللہ تعالیٰ نے ہدایت دے دی ہوتی تو میں متقین میں سے ہو جاتا یعنی بچ جاتا برائیوں سے۔اَوْ تَقُوْلَ حِيْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ انَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ تو پہلی آیت کا مضمون میں نے تقویٰ سے جو باندھا تھا قرآن کریم اس کو درست ثابت فرما رہا ہے اور دوسری آیت کے مضمون کو جو میں نے تقویٰ کے بعد بلند تر مناصب کی طرف بڑھنے کے لئے بیان کیا تھا یہ آیت بعینہ اس کی تصدیق کر رہی ہے۔اسی ترتیب کے ساتھ قرآن کریم اس مضمون کو ختم کرتا ہے کہ دیکھو پہلے پہلے ہدایت پا جاؤ ورنہ یہ حسرت رہے گی کہ کاش میں تقویٰ اختیار کر لیتا اور اس عذاب کے بعد چونکہ تقویٰ کی طرف لوٹنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی یہ اس طرف اشارہ ہے۔جب خدا کی پکڑ آ جائے پھر اِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا والی بات ختم ہو چکی ہوتی ہے۔پھر تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی بات نہیں اللہ مجھے بخش دے گا۔اس وقت سوائے اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کاش اس وقت سے پہلے پہلے میں تقویٰ اختیار کر چکا ہوتا اور امن میں آجاتا اور پھر فرمایا اَوْ تَقُولَ حِينَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ أَنَّ لِي كَرَّةً فَأَكُونَ مِنَ الْمُحْسِنِينَ اچانک عذاب دیکھ کے پھر یہ نہ کہنا کہ کاش میں اتنا نیک ہوتا اس سے پہلے کہ احسان کی منازل بھی طے کر چکا ہوتا۔تو بعض دفعہ عذاب کے وقت محض تو بہ کی طرف توجہ نہیں ہوتی بلکہ اور بھی زیادہ بلند مراتب کو حاصل کرنے کی طرف توجہ ہوتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگ جوان مراتب کو حاصل کرتے ہیں وہ یاد آ جاتے ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ او ہو میری زندگی میں وہ بھی تو تھا، وہ بھی تو تھا ، کیسے اعلیٰ پائے کے لوگ تھے۔کس طرح انہوں نے خدا کے حضور رکوع اور سجود میں زندگیاں گزاریں کس طرح خدا کی عبادتیں کیں۔کس طرح خدا کے معاملات میں انہوں