خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 123 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 123

خطبات طاہر جلد 16 123 خطبہ جمعہ 14 فروری 1997ء نیکیوں کی راہ تو ایک لامتناہی آگے بڑھنے والی راہ ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف مسلسل حرکت ہے جو حقیقی حسن پیدا کرتی ہے۔چند باتیں حاصل کر کے، چند بدیوں سے بچ کر تم حقیقت میں نیک انجام کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اس راہ میں اگلے قدم نہ اٹھاؤ، اگلی منزلیں بھی طے نہ کرو اور وہ احسان کی منازل ہیں۔قرآن کریم کی ایک دوسری آیت جس میں درجہ بدرجہ مستقل احسان کی طرف سفر کا ذکر ہے میں پہلے بھی ایک خطبے میں روشنی ڈال چکا ہوں۔پس اس میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانتا مگر یا درکھیں کہ احسان والی جو منزل ہے وہ آپ کو ایسے عذاب سے بھی بچائے گی جس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔تُنْصَرُونَ اور اس میں یہ فرق ہے اگر عذاب ایسا آئے کہ ابھی زندہ ہو انسان، ہوش میں ہو مدد مانگ سکتا ہو تب ہی اس کی مدد کی جائے گی نا۔لیکن یہ ایسا عذاب جس کا پتا ہی نہ چلے ، آئے اور آپ کو کالعدم کر دے بھسم کر دے اگر وہ آگ کا عذاب ہے، اگر سیلاب کا عذاب ہے تو غرق کر دے اس وقت آپ کیا مدد مانگیں گے۔اگر سوتے میں ایسا واقعہ ہو جائے اور اتنا اچانک ہو کہ ہوش بھی نہ رہے کہ کیا ہو رہا ہے۔جو احسان کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں ان کو خدا تعالیٰ کی خوشخبری ہے ان کو ایسے عذاب کی اچانک پہنچنے والی تکلیفوں سے بھی بچایا جائے گا۔اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے گا۔أَن تَقُولَ نَفْسٌ يُحَسْرَتُى عَلَى مَا فَرَّضْتُ فِي جَنْبِ اللهِ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو پھر حسرت کے سوا تمہارا کوئی انجام نہیں۔اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو جن کو مغفرت نصیب ہوتی ہے ان میں تم شامل نہیں ہو یہ اعلان ہو رہا ہے۔اور حسرت یہ ہوگی مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللهِ میں نے جو جو کوتاہیاں کی ہیں، جن فرائض سے غافل رہا ہوں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے ساتھ ہوتے ہوئے اس کے پہلو میں زندگی بسر کرتے ہوئے وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ الشَّخِرِينَ میں تو الشخِرِيْنَ میں سے رہا۔اب ساخر کا ایک معنی ہے تمسخر کر نے والا ، مذاق کرنے والا۔اس موقع پر وہ چسپاں نہیں ہوتا۔ساخر کا ایک مطلب ہے کسی چیز کو معمولی سمجھنا اور اس کو وقعت نہ دینا اور یہی معنیٰ ہے جو اس موقع پر چسپاں ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود کا ترجمہ میں نے اسی نیت سے دیکھا تو اس میں یہ لکھا ہوا ہے ساخرون والی آیت کا یہ ترجمہ ہے تا ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ جو کچھ اللہ کے بارے میں میں نے کمی کی ہے اس کی بناء پر مجھ پر افسوس ہے اور میں تو وحی الہی کو حقیر سمجھتارہا۔ساخرین کا ترجمہ آپ نے حقیر ہی فرمایا ہے مگر وحی الہی کو بریکٹ میں رکھا ہے یعنی ایک معنی