خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 109
خطبات طاہر جلد 16 109 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء جا رہے ہو تو خدا تعالیٰ تم سے یہ سلوک فرمائے گا کہ تمہاری پچھلی زندگی کی ساری سڑک جو بہت لمبی ہے اسے چھوٹا کر دے گا اور نیکی کی سڑک ، جس کی طرف تم بڑھ رہے تھے وہ یوں لگے گا جیسے تم اس منزل کے قریب پہنچ گئے ہو اور جس طرف سے آرہے تھے بدیوں کی زندگی بہت دور دکھائی دے گی جسے بہت پیچھے چھوڑ آئے ہو۔یہ مضمون ہے۔اس وقت وقت نہیں ہے پوری تفصیل حدیث پڑھ کر اس کا بیان کرنے کا لیکن خلاصہ کلام یہی ہے کہ جو خلاء ہیں اللہ انہیں نظر انداز فرما دیتا ہے اور تبدیلی کے بعد کے چند دن کو اس کے پچھلے تمام خلاؤں کو بھرنے کے لئے فیصلہ کر دیتا ہے۔اس حال میں جان دیتا ہے گویا اس نے ساری عمر نیکیاں کرتے ہوئے ہی جان دی ہے۔پس ماضی سے جہاں تک تعلق ہے اتنا ہی تعلق ہے لیکن ماضی سے یہ تعلق تب قائم ہوگا اگر مستقبل تبدیل ہو گا اس کے بغیر نہیں۔پس آج مستقبل تبدیل کرنے کا فیصلہ کر کے اٹھیں اور لازم کر لیں اپنے لئے کہ خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اور اس کے لئے وضو کرنا ہوگا اور بعضوں کو غسل کرنا ہوگا۔وضو میں انسان کے کچھ اعضاء دھوئے جاتے ہیں اور انسان پاک ہو کر اللہ کے حضور حاضر ہوتا ہے اور عبادت کے لئے لازم ہے کہ وضو کرے اور وہ جن کا سارا بدن کسی ایسے جذبے سے ملوث ہو گیا ہو جس کا دھونا ضروری ہے تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے غسل کرو۔تو عبادت کا فیصلہ محض اکیلا کافی نہیں، آپ یہ بھی غور کریں کہ آپ کو نسل بھی کرنے ہیں آپ کو وضو بھی کرنے ہیں۔پس یہ سوچیں کہ پیچھے کون سی بدیاں ہیں جنہوں نے آپ کو خدا سے ہٹا رکھا ہے، دنیا کی طرف توجہ مبذول کرا رکھی ہے۔ان بدیوں پر نظر ڈالیں اور ایک غنسل تو بہ کریں۔فیصلہ کریں کہ ہم نے اب ان بدیوں سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا حاصل کر لینا ہے۔یہ فیصلہ ہے جو زندگی بدلا کرتا ہے اور عبادت کے فیصلے سے پہلے یہ فیصلہ ضروری ہے کیونکہ کوئی عبادت بھی اگر غسل ضروری ہو تو غسل کے بغیر قبول نہیں ہوتی۔اگر وضوضروری ہو تو وضو کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور اس نکتے کو سمجھنا بہت لازم ہے۔غسل سے ظاہری غسل بھی مراد ہے مگر فی الحقیقت اندرونی غسل مراد ہے۔وضو سے ظاہری وضو بھی مراد ہے مگر فی الحقیقت ایک اندرونی وضو مراد ہے۔تم اپنے روزمرہ کے اعضاء جو دکھائی دے رہے ہیں کم سے کم ان کو تو پاک رکھو۔یہ مضمون ہے وضو کا مضمون اس کو بھی سمجھ لیجئے۔آپ جب باہر نکلتے ہیں تو لا زم تو نہیں کہ آپ اندرونی حصوں کو جو دکھائی نہیں دے رہے جن پہ کپڑے پڑے ہوئے