خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 108
خطبات طاہر جلد 16 108 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء اس لئے وہ لوگ جو دنیا کی زندگی سے خوش ہیں وہ سوچ کر تو دیکھیں کہ جب موت کا وقت آئے گا تو ایسی بے قراری ہوگی کہ کچھ پیش نہیں جائے گی۔وہ چاہیں گے کہ ہم واپس ہوں تو پھر کچھ کریں لیکن اللہ تعالیٰ اس خیال کو رد فرمادے گا اور یہ ساری زندگی ہاتھ سے نکل جائے گی اور دار الجزاء آگے لامتناہی سامنے کھڑا ہو گا تو مرنے سے پہلے کچھ کرو اور موت کا نہ دن معین ہے نہ وقت معین ہے اس لئے اپنی زندگی کو عبادتوں سے بھرنے کی کوشش کرو اور عبادت کے ساتھ ساتھ دوسری نیکیاں ضرور نصیب ہوتی ہیں۔اس لئے جب آپ نمازیں پڑھتے ہیں تو نمازوں کے ساتھ بنی نوع انسان کی ہمدردی میں خرچ کرنے کی بھی توفیق ملتی ہے دوسری نیکیوں کی بھی توفیق ملتی ہے۔جو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ انسان ایک قدم خدا کی طرف جاتا ہے تو خدا دس قدم آتا ہے۔چل کر جاتا ہے تو اللہ دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے اس سے یہ مراد ہے کہ ہر طرف سے پھر خدا آنے لگتا ہے۔آپ نے نماز پڑھی تو اللہ تعالیٰ آپ کو دس اور نیکیوں کی توفیق بخش دیتا ہے جن کے ذریعے خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے اور ہر نیکی پھر آگے نیکیوں کے بچے دیتی چلی جاتی ہے۔تو انسانی زندگی میں ایک انقلاب آنا شروع ہو جاتا ہے۔ایسا شاذ کے طور پر ہوتا ہے کہ یہ انقلاب اچانک آئے اور کسی کی کایا پلٹ جائے کہ گویا اچانک نیا وجود پیدا ہو گیا ہے۔ایسا بھی ہوتا ہے مگر بہت شاذ کے طور پر۔قاعدہ کلیہ یہی ہے کہ آپ نیکی کا ایک فیصلہ کر لیں اور پورے عزم کے ساتھ اس پر قائم ہو جائیں اور خدا سے اقرار کریں کہ اے میرے خدا میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں تیرے حضور آگے بڑھنے کی کوشش کروں گا، تیرے حضور سر جھکانے کی کوشش کروں گا ، اپنی رضا کو تیری رضا کے تابع کرنے کی کوشش کروں گا۔میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مرنے سے پہلے اس حال میں تجھ تک پہنچوں کہ پھر آگ میرا انتظار نہ کر رہی ہو بلکہ تیری رضا میرا انتظار کر رہی ہو۔یہ فیصلہ ہے جو آج آپ کی تقدیر بدل دے گا۔یہ فیصلہ ہے جسے نصیب ہو جائے اسے لیلة القدر بھی مل گئی ، اس کی ساری زندگی کے خلاء پر ہو جائیں گے اور آئندہ اگر چند دن بھی زندہ رہیں گے تو پچھلی زندگی کی ساری بدیوں کو وہ دن دھو دیں گے۔خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی زبان سے جو ہمیں یہ خوش خبری دی ہے کہ اگر ایسے وقت میں بھی تمہیں تو فیق مل جائے تو بہ کی کہ موت کا وقت قریب پہنچا ہو اور نیکی کی طرف بڑھتے ہوئے تم نیکیوں کے شہروں میں ابھی پہنچ نہیں ابھی گھسٹ گھسٹ کے