خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 105
خطبات طاہر جلد 16 105 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء قُعُودًا وہ کچھ دیکھتے ہیں دنیا میں جس کے نتیجے میں راتوں کو اٹھ کے کھڑے ہو جاتے ہیں اور قعُودًا کبھی وہ بیٹھ کر عبادت کرتے ہیں، کبھی کھڑے ہو کے عبادت کرتے ہیں۔یہ مضمون دیکھیں کیسا واضح طور پر اس مضمون سے خدا تعالیٰ نے ملایا ہوا ہے۔فرمایا أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ أَنَاءَ الَّيْلِ سَاجِدًا وَ قَائِمًا کیا وہ شخص جو راتوں کو اٹھتا ہے کبھی کھڑے ہو کے خدا کو پکارتا ہے، کبھی سجدہ ریز ہوکر دعائیں کرتا ہے اور خدا کا خوف اس کے دل پر غالب رہتا ہے اور اپنی ہر آرزو کو خدا کے حضور پیش کرتا ہے کیونکہ اس کے سوا وہ کسی اور چوکھٹ کی طرف نہیں جاتا اسی سے امید رکھتا ہے اسی سے دنیا کے شر سے بچنے کی خاطر توقع رکھتا ہے۔پس ہر خوف خدا کے تعلق میں ہے۔ہر خواہش، ہر تمنا اللہ کے تعلق میں ہے۔فرمایا یہ لوگ ہیں جو يَعْلَمُونَ جاننے والے ہیں۔اِنَّمَا يَتَذَكَرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ وہی بات جو دوسری آیت میں تھی اس آیت میں بھی بیان فرمائی کہ نصیحت تو صرف اولی الالباب پکڑا کرتے ہیں اور نہ کوئی نصیحت نہیں پکڑتا۔تو آپ سے میں پھر ان آیات کے حوالے سے اب گزارش کرتا ہوں کہ یہاں جو مرکزی نکتہ ہے وہ عبادت کا ہے اور عبادت میں رات کا حوالہ دیا ہے دن کا حوالہ نہیں کیونکہ رات کی عبادت خدا کے حضور خالص ہونے کی ایک خاص امتیازی شان رکھتی ہے۔دن کی عبادتوں سے انکار نہیں ہے مگر رات کا حوالہ اس لئے دیا گیا ہے کہ تم اگر واقعہ اللہ سے پیار کرتے ہو، حقیقت میں اس سے تعلق ہے تو ایسے وقت میں بھی اس کے حضور اٹھو گے جب دنیا کی آنکھ تمہیں دیکھ ہی نہیں رہی۔بسا اوقات گھر میں بیوی بچے سوئے ہوئے ہیں ان کو بھی پتا نہیں کہ کون اٹھا ہے، کیوں اٹھا ہے اور وہ اللہ کے حضور گریہ وزاری کرتے ہوئے اور اس کے خوف سے ڈرتے ہوئے ، اس سے ہر خیر کی امید لگائے بیٹھے ہوئے ، کھڑے ہوئے بھی اس کی عبادت کرتا ہے سجدے میں بھی اس کی عبادت کرتا ہے تو یہ عبادت کے خلوص کی طرف اشارہ ہے۔پس رمضان مبارک نے آپ کو عبادت کے گر سکھا دیئے ہیں۔اگر آپ نے خود نہیں سیکھے تو سیکھنے والوں کو دیکھا ضرور ہے۔کوئی مسلمان گھر شاذ ہی ایسا ہو جہاں کوئی بھی عبادت نہ کی جارہی ہو رمضان میں، جہاں کوئی بھی روزہ رکھنے والا نہ ہو۔اگر ایسا ہے تو وہ بعید نہیں کہ آج اس جمعتہ الوداع میں بھی حاضر نہ ہوئے ہوں اس لئے ان تک تو نہ میری آواز پہنچے گی نہ وہ میرے مخاطب ہیں۔میں