خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 104
خطبات طاہر جلد 16 104 خطبہ جمعہ 7 فروری 1997ء ہے جو دنیا کی تعریف سے الگ ہے۔دنیا کی تعریف میں جو انسان اپنے مطلب کی خاطر جو کچھ اس کو حاصل ہوتا ہے اس کی پیروی کرتا چلا جاتا ہے خواہ چالاکی سے کرے، خواہ جھوٹ سے کرے،خواہ دھوکہ بازی سے کرے، خواہ انسان کی خوشامد سے کرے۔عقل کا آخری فیصلہ دینا اس بات پر ہوتا ہے کہ اس نے اپنے مطالب کو پالیا۔اس نے جو حاصل کرنا تھا خواہ دھو کے سے حاصل کیا، خواہ ظلم سے حاصل کیا، خواہ خوشامد سے حاصل کیا، خواہ اپنے نفس کی عزت پر چھری پھیر کر حاصل کیا، حاصل تو کر لیا، یہ آخری تعریف ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی قو میں ظاہر یہ تعریف نہیں کرتیں مگرفی الحقیقت اسی تعریف پر عمل پیرا ہیں۔تمام دنیا کی سیاست عقل کی اس تعریف کے تابع ہے کہ مطلب حاصل کرنا ہے جھوٹ ، سچ ، ذلت، رسوائی ، عظمت ان کا کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔سیاست صرف اس بات کا نام ہے کہ جس طرح بھی چاہو اپنے مقاصد حاصل کر لو اور اپنی قوم کے حق میں وہ کچھ حاصل کر لو جو خواہ دوسری قوم پر ظلم کے نتیجے میں حاصل ہو یہ عقل کی تعریف ہے۔اللہ تعالیٰ نے اُولُوا الْأَلْبَابِ کی اور تعریف فرمائی ہے۔ایسے لوگوں کا علم ان کو خدا کی طرف نہیں لے جاتا جو اس تعریف کے تابع دنیا میں کام کرتے ہیں ان کا علم انہیں ان چیزوں کی طرف لے جاتا ہے جو دنیا میں انہوں نے معبود بنارکھے ہیں لیکن وہ لوگ جو بچے ہیں، جن کی عقل روشن ہے جو صاحب عقل ہیں قرآن کریم کی رو سے، ان کے متعلق قرآن کریم نے بالکل مختلف نقشہ کھینچا ہے۔فرماتا ہے: اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَتِ لِأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران: 192،191) کہ زمین و آسمان کی تخلیق میں وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ اور راتوں کے اور دن کے آپس میں ادلنے بدلنے میں لایت لِأُولِي الْأَلْبَاپ جو اہل عقل ہیں خدا کے نزدیک ان کے لئے ان میں بہت سے نشانات ہیں اور وہ نشانات کیا ہیں الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا