خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 990 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 990

خطبات طاہر جلد 15 990 خطبہ جمعہ 27 دسمبر 1996ء وہ ہماری وہمی نہیں بلکہ عملاً اللہ تعالیٰ ان برکتوں کو دکھائے گا تو ہمارا یقین اور ایمان خدا تعالیٰ پہ اور بھی زیادہ جلا پائے گا۔وقف جدید کی تحریک کا آغاز تو 1958 ء سے ہے یا 1957ء کے آخر سے اور اس پہلو سے ایک لمبے زمانے سے یہ تحریک چلی آرہی ہے مگر بیرون پاکستان چندوں کے لحاظ سے اسے ممتد کرنے کا آغاز چند سال پہلے ہوا۔جب میں نے یہ تحریک کی تو اس وقت میرے ذہن میں یہ نہیں تھا کہ اتنی بڑی ضرورتیں پیدا ہونے والی ہیں کیونکہ تبلیغ جاری تو تھی مگر دھیمی دھیمی اور اس میں وہ نئی حرکت اور نئی سرعت پیدا نہیں ہوئی تھی جواب اللہ تعالیٰ کے فضل سے پیدا ہو چکی ہے اور تبلیغ ہی کے تقاضے ہیں جن کو پورا کرنے کے لئے نئے مالی تقاضے ابھرے اور اس کی وجہ سے عام چندوں تک محدود رہتے ہوئے وہ ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتی تھیں۔مثلاً وقف جدید کے تعلق میں میں نے یہ اعلان کیا تھا کہ ہندوستان کی جماعتیں چونکہ ابھی غریب ہیں اور تقسیم کے بعد ان کو بہت بڑا دھکا لگا تھا جس سے ابھی تک وہ سنبھلی نہیں اس لئے وہاں کی وقف جدید کی ضرورتیں ان کے چندے کی صلاحیت کے مقابل پر بہت زیادہ ہیں۔اس طرح افریقہ کی جماعتیں چونکہ بیشتر غریب ہیں نہ وہ پوری طرح اپنے چندوں میں خود کفیل ہیں، نہ وقف جدید کی طرز کا نظام وہاں جاری کرنے سے یا وقف جدید کی نہج پران کی تعلیم و تربیت کرنے کے لئے ہمارے پاس وہاں کوئی ایسے ذرائع مہیا ہیں کہ ہم ملکی طور پر ہی ان ضرورتوں کو پورا کر سکیں اس لئے میں نے یہ تحریک کی کہ مغربی ممالک بالخصوص اور بیرونی ممالک بالعموم اس تحریک میں شامل ہو جائیں اور محض پاکستان ہی کو یہ اعزاز نہ رہے کہ وہ اکیلا یا ہندوستان اور پاکستان دونوں یا بنگلہ دیش یہ تینوں دراصل کہنے چاہئیں تھے مجھے، کہ ان تینوں میں یہ اعزاز نہ رہے کہ یہ تو ایک ایسی تحریک میں حصہ لے رہے ہیں جو خالصہ للہ ایک عظیم مقصد کے لئے قائم کی گئی اور باقی جماعتیں دنیا کی محروم رہ گئی ہیں۔جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے مجھ پر یہ امر واضح نہیں تھا کہ کوئی حقیقی ضرورت ایسی ابھری ہے جس کو پورا کرنے کے لئے یہ تحریک کی جائے اور اندازہ تھا کہ یہ ضرورتیں بڑھ رہی ہیں اس لئے آمد کے ذرائع بھی بڑھنے چاہئیں لیکن بعد کے حالات سے پتا چلا کہ یقینا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہی سے تحریک دل میں ڈالی گئی تھی کیونکہ اچانک تبلیغ میں ایسی سرعت پیدا ہوگئی اور دنیا کا رجحان احمدیت کی طرف اس تیزی سے بڑھنے لگا کہ ان کو تبلیغ کرنے کا تو الگ مسئلہ، ان کی تربیتی ذمہ داریوں کو