خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 955
خطبات طاہر جلد 15 955 خطبہ جمعہ 13 دسمبر 1996ء أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِینَ کہ اس جنت کی طرف دوڑو جس کا کوئی کنارہ نہیں ہے اور وہ اس اللہ اور رسول کی اطاعت سے وابستہ ہے جو رحمة للعالمین کے مضمون اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔اللہ کی صلى الله رحمت جو تمام عالمین پر پھیلی ہوئی ہے اس رحمت نے محمد رسول اللہ ﷺ پیدا فرمائے جن کی رحمت تمام جہانوں پر پھیلا دی اور ان کی اطاعت سب سے زیادہ اللہ کے رحم کو جذب کرنے والی ہے۔اگر ان کی اطاعت کرو گے یعنی اللہ اور رسول کی تو ان کی رحمانیت سے حصہ پاؤ گے اور اگر اطاعت سے منہ موڑو گے تو اسی حد تک تم رحم سے محروم کئے جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محروم کئے جاؤ گے۔پس سَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ میں جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ اس رحمت سے جو اپنی بیویوں سے، اپنی ازواج سے، اپنے بچوں سے کی جاتی ہے اس کے مقابل پر بہت وسیع تر ہے اور ان دونوں آیات کا ایک بہت ہی گہرا تعلق یہ بھی ہے کہ ہم تو اپنے بچوں کی پرورش کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں مگر آنحضرت ﷺ تمام بنی نوع انسان کی پرورش کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں اور آپ کے متعلق خدا تعالیٰ کا یہ فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ آپ نے کسی پہلو سے بھی اس پرورش میں کوتا ہی نہیں کی۔ہم جو چھوٹے چھوٹے دائروں میں پرورش کے ذمہ دار بنائے گئے اگر ہم ان دائروں میں ناکام ہو جائیں تو کتنا بڑا گناہ ہے اور کتنی بڑی محرومی ہے کیونکہ ہماری تو تھوڑی سی پہنچ جہاں تک بھی ہے اسی نسبت سے ہماری ذمہ داریاں قائم فرمائی گئی ہیں۔کسی کا گھر چھوٹا ہے تو اس چھوٹے گھر کی ذمہ داری اس پر ہے کسی کا گھر بڑا ہے تو بڑے گھر کی۔کوئی امیر ہے تو اس امارت کے حوالے اور اس کی نسبت سے انسان کی اپنے گرد و پیش ذمہ داریاں قائم ہوتی ہیں، غریب کی اسی نسبت سے قائم ہوتی ہیں۔مگر آنحضرت ﷺ کی رحمت اگر سارے جہانوں پر محیط ہے تو اسی پہلو سے آپ کا حساب کتاب سارے جہانوں کے تعلق سے لیا جانا تھا اور اس تعلق میں خدا تعالیٰ اس آیت کے ذریعہ آپ کو کلیہ بری الذمہ قرار دیتا ہے۔اگر یہ نہ ہوتا تو یہ عنوان باندھا نہیں جا سکتا تھا۔وَاَطِيْعُوا اللهَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ اگر آنحضرت ﷺ نے رحمت کے تمام تقاضوں کو پورا نہ کر دیا ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ کیسے کہہ سکتا تھا کہ ان کی پیروی کرو گے تو تم پر خدا کی رحمت کے تمام تقاضے جو خدا کی رحمت سے تمہارے وابستہ ہیں وہ پورے کر دیئے جائیں گے۔پس یہ آنحضرت ﷺ کی کامیاب رسالت اور کامل رسالت کی طرف ایک گواہ آیت ہے جس