خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 948 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 948

خطبات طاہر جلد 15 948 خطبہ جمعہ مورخہ 6 دسمبر 1996ء اور یہ ساری باتیں اپنی جگہ بچی ہیں کہ سود کے ذریعے نہیں بڑھتا بلکہ اس پر خوست پیدا ہوتی ہے۔اللہ کو قرضہ حسنہ دینے سے لازماً بڑھتا ہے اور غریب کی مدد کرنے سے ، ضرورت مند اور محتاج کا خیال رکھنے سے مال میں ضرور برکت پڑتی ہے لیکن یہ چونکہ منی مضمون یہاں آیا ہے اس لئے میں اس کو سر دست چھوڑتا ہوں۔اگلی بات یہ ہے کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی انسان عفو سے کام لے اور خدا تعالیٰ نے اس کو عزت نہ دی ہو۔عفو سے اگر کام لو گے تو تمہاری عزت بڑھے گی عزت کم نہیں ہوگی اور یہ ایک بہت ہی گہرا نفسیاتی راز ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے ہم پر کھولا اور امر واقعہ یہ ہے کہ وہ ماں باپ جو اپنی اولاد سے عفو کا سلوک کرتے ہیں ہمیشہ ان کی عزت ان کی اولاد کے دل میں بڑھتی ہے اور عفو کے ذریعے باہر سوسائٹی میں بھی عزت بڑھتی ہے اور کبھی عفو سے انسان گرتا نہیں یعنی لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اس کو کیا پتا چلتا ہے چلو چھوڑو پرے اس کو۔عفو میں ایک وقار پایا جاتا ہے۔عفو کے مضمون میں یہ بات داخل ہے کہ علم ہو گیا ہے لیکن دیکھو ہم اپنی اعلیٰ حوصلگی کی وجہ سے، اپنے وسیع القلب ہونے کی وجہ سے تجھ سے اعراض کر رہے ہیں اس کے نتیجہ میں ہمیشہ ایسے شخص کے لئے دل میں عزت بڑھتی ہے اس کے دل میں محبت پیدا ہوتی ہے۔حضرت مصلح موعود اس کی ایک بہت ہی اعلیٰ پائے کی مثال تھے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی میں نے بہت قریب سے اور بار بار دیکھا عجیب عفو کا رنگ تھا یعنی جانتے تھے کہ یہ کچھ ہو رہا ہے مگر یوں نظر کرتے تھے گویا دیکھا ہی کچھ نہیں مگر جب دیکھتے تھے تو پھر صفح جمیل ضرور ہوتا تھا جب آنکھوں میں آنکھیں ڈال لیں جب ایسے دیکھا کہ نظر آ گیا کہ اس نے دیکھ لیا ہے پھر اس سے ناراضگی کا اظہار بھی بالکل اسی طرح جیسے قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ پھر اس سے کچھ دیر کے لئے گویا الگ ہو گئے ، نگاہوں میں اجنبیت آ گئی، یہ ہے وہ عفو کا دوسرا طریق یعنی معنی وہی ہے مگر اور رنگ میں ظاہر ہوتا ہے۔گویا نہیں دیکھا، اس کو نہیں دیکھا جو توجہ چاہتا ہے۔ہر وقت جس کو عادت ہو کہ مجھ پر پیار کی نظر رہے اس سے نظریں ہٹانا بہت بڑی سزا ہے اور Reprove کا معنی اس لحاظ سے اس میں داخل ہو جاتا ہے۔رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ پھر تم اگر عفو سے کام لو گے تو عفو کے نتیجہ میں تمہیں کبھی بھی گھٹیا اور چھوٹا نہیں سمجھا جائے گا۔اب اس میں ایک اور بڑی عجیب راز کی