خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 910
خطبات طاہر جلد 15 910 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء وصال میرے لئے بہت گہرے صدمے کا موجب بنا ہے مگر یہ صدمے تو انسانی زندگی کا حصہ ہے۔وَيَبْقَى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ یہی پیغام ہے جو ہمیشہ سہارا بنتا ہے۔ان کی بیگم سٹر رضیہ بھی غیر معمولی اخلاص رکھنے والی ، مستعد اور بہادر خاتون ہیں۔عورتوں میں وہ یہ ڈیوٹی دیا کرتی تھیں، ان کے اوپر ان کو ظاہر ہے کہ زیادہ اعتماد تھا۔ایک دفعہ مجھے یوں لگا جیسے اچانک پیچھے سے کوئی دور جا پڑا ہے۔تو دیکھا تو پرائیویٹ سیکرٹری ان کے کندھے کا شکار ہوئے تھے۔ان کو حکم تھا کہ اس لائن سے آگے کوئی مرد نہیں جائے گا۔انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ پرائیویٹ سیکرٹری یا کون ہے وہ لائن آئی ہے تو یوں کندھا مارا ہے کہ پرائیویٹ سیکرٹری لڑھکتے ہوئے دور تک نکل گئے۔تو بڑی مستعد تھیں ماشاء اللہ۔اب بھی مستعد ہیں، مستعد رہیں گی انشاء اللہ ان کے لئے اور ان کی اولاد کے لئے بہت دعا کریں۔دیگر مرحومین جن کا جنازہ آج جمعہ کے بعد پڑھا جائے گا ان میں سرفہرست ہمارے صادق صاحب مرحوم شہید ہیں۔ان کا ذکر مختصر ضروری ہے۔بہت ہی پیارا وجود تھا، بڑی بہادری سے اپنی جان جان آفریں کو پیش کی ہے خدمت دین میں، دعوت الی اللہ میں۔یہ وہ ہیں جن کے والد 1965ء میں احمدی ہوئے تھے۔کٹر اہل حدیث علاقہ ہے وہ اور وہ چونکہ صاحب اثر تھے ، سب سے پہلے ان کے بھائی احمدی ہوئے تھے ان کی تبلیغ سے والد احمدی ہوئے تھے۔یہ اور ان کے ایک بھائی میاں عنایت اللہ تھے جو اس وقت تو سینے میں گھونٹ کر اپنے بغض چھپاتے رہے جب تک والد زندہ تھے۔ان کے سامنے سراٹھانے کی ان کو مجال نہیں تھی مگر ان کے وصال کے فوراً بعد انہوں نے شدید مخالفت شروع کی اتنی شدید مخالفت کہ اپنے بھائی جو ایمان لایا تھا باپ سے پہلے ہدایت اللہ صاحب ان کی زندگی اجیرن کر دی لیکن پھر آخر خود احمدیت کی صداقت کا 1974ء میں شکار ہوئے۔جب 1974ء کی تحریک زوروں پر تھی اور شور تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ اب ایسی دیواری بن گئی ہے کہ کوئی احمدی نہیں ہوسکتا تو یہ مخالفت پھلانگ کر امن کے دائرے میں آگئے اور اس کے بعد سے پھر ایک تنگی تلوار تھے احمدیت کی تبلیغ میں ، احمدیت کا پیغام پہنچانے میں۔انہی کی تبلیغ سے محمد اشرف صاحب آف جاہن ضلع گوجرانوالہ وہ بھی کر اہل حدیث علاقہ کے تھے وہ احمد کی ہوئے اور جب وہ احمدی ہوئے تو پھر اس علاقے کے مولویوں اور دوسروں سے برداشت نہیں ہوا۔سب سے پہلے انہوں نے اشرف صاحب کو شہید کیا اور