خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 909
خطبات طاہر جلد 15 909 خطبہ جمعہ 22 نومبر 1996ء بھی ، روحانی علوم میں بھی ترقی کرنے والا ہمارا پیارا ساتھی اور بھائی ہم سے جدا ہوا۔اللہ کے حوالے، اللہ کے پیار کی نگاہیں ان پر پڑیں اور ان کو سنبھال لیں اور اس کے علاوہ ان کی اولاد کے لئے بھی یہی دعا کریں کہ خدا ان سے ہمیشہ حسن سلوک رکھے، شفقت اور رحمت کا سلوک رکھے اور ان دعاؤں کو آگے بھی ، ان کے خون میں ، ان کی نسلوں میں جاری کر دے جو ان کے حق میں قبول ہوئیں۔اب آپ کے سامنے ایک اور ذکر خیر کرنا چاہتا ہوں وہ ہمارے بہت ہی پیارے مخلص فدائی امریکن دوست کا ذکر ہے۔وہ بھی ڈاکٹر تھے، پی ایچ ڈی تھے ، برادر مظفراحمد ظفر جو امریکہ کے نائب امیر تھے۔یہ بھی انتہائی منکسر المزاج اور بے حد مستعد خدمت کرنے والے اور پی ایچ ڈی تھے مگر اپنے ساتھ ڈاکٹر نہیں لکھتے تھے اور ڈیٹن میں پروجیکٹ کیور ( Cure) کے ڈائریکٹر تھے۔مجھ سے بہت پرانا تعلق ہوا ہے جلسہ سالانہ پر ان کے آنے کی وجہ سے اس کے بعد یہ مسلسل بڑھتا رہا کیوں کہ ان کے اندر بہت گہری خوبیاں تھیں اور بڑا روشن دماغ تھا۔امریکنوں کے مسائل کو جس وضاحت کے ساتھ یہ سمجھتے تھے بہت کم ہیں جن کو اتنا عبور تھا اور ان مسائل میں جب ان سے گفتگو ہوئی تو میں نے ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھایا اور مستعد ایسے کہ جب میں وہاں جایا کرتا تھا تو میری حفاظت کے تعلق میں جو انسانی کوششیں ہوتی ہیں ان کے یہ انچارج ہوا کرتے تھے، دن رات لگتا تھا ایک لمحہ بھی نہیں سوتے۔جب نکلتا تھا یہ سامنے مستعد کھڑے ہیں۔پھر ڈرائیونگ کرنی اور بہت تیز۔میں نے کئی دفعہ سمجھایا کہ خدا کے لئے کچھ آرام کر لیا کریں۔ورنہ آپ کو کیا، مجھے صدمہ پہنچے گا۔تو پھر تھوڑا سا وعدہ کیا اچھا اچھا میں خیال رکھوں گا مگر کئی دفعہ یہ ہوا کہ اپنا کام کر کے پیچھے رہ گئے اور میں نے ذکر کیا کہ او ہو ہم تو یہاں بیٹھے انتظار کر رہے ہیں، کھانا بھی کھانا تھا ان کے بغیر مزہ نہیں آئے گا وہ تو بہت پیچھے رہ گئے ہیں تو ابھی بات ختم نہیں ہوئی کہ سامنے آ کھڑے ہوئے۔وہ ہوا کی طرح چلتے تھے ڈرائیونگ میں اور مزہ یہ ہے کہ پکڑے نہیں جاتے تھے۔دعائیں کرتے ہوئے جاتے ہوں گے تو خدا کا غالب قانون جو ہے وہ دنیا کے قانون پر غالب آکر ان کی حفاظت فرمالیتا تھا۔کبھی ایکسیڈنٹ نہیں ہوا خدا کے فضل سے۔تو چند دن بیمار رہ کر اچانک جو جگر کا کینسر تھا جس کا علم بعد میں ہوا جس کی وجہ غالباً ان کا صبر ہے۔انہوں نے معلوم ہوتا ہے عمد أبتایا نہیں، ابتدائی علامتوں کا ذکر بھی کسی سے نہیں کیا۔اس وقت پتا چلا جب وہ آگے بڑھ چکا تھا اور ان کا