خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 892 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 892

خطبات طاہر جلد 15 892 خطبہ جمعہ 15 /نومبر 1996ء اپنے بچوں کو اس حد تک دنیا کے گندے ذوق سے لذت اندوز ہونے کی چھٹی دے رکھی تھی ، اب ذوق بگڑ رہے ہیں اور ہمیں کہتے ہیں ہم اپنا مزاج ان کی خاطر بگاڑ دیں۔یہ تو نہیں ہوسکتا۔آپ کے بچوں کا جو مزاج ہے وہ آپ نے بگاڑا ہے۔آپ کا یہ حق نہیں کہ ہمارا مزاج بھی بگاڑیں آپ اور ہم جو سچا ذوق اور سچائی کی محبت پیدا کرنا چاہتے ہیں اس لئے کہ آپ کے بچوں کو دلچسپی نہیں ہم یہ بات چھوڑ دیں۔یہ نہیں ہو سکتا اور اگر وہ اچھی باتوں میں دلچسپی نہیں لیں گے تو آپ کی آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے آپ کی نسلیں ضائع ہو جائیں گی کوئی ان کو سنبھال نہیں سکتا۔اس لئے اوّل تو یہ بھی ایک متکبرانہ بات ہے کہ جی ہمارے بچے تو بڑے اونچے ہیں آپ کے ٹیلی ویژن سے۔اونچے اونچے کوئی نہیں ہیں، بگڑے ہوئے ہیں، نیچے ہیں اور آپ ان کو اونچا اٹھائیں گے تو وہ اٹھ جائیں گے۔کچھ دیر ساتھ بیٹھ کر بعض پر وگرام دکھا ئیں تو ان کے اندر دلچسپی پیدا ہو جائے گی بلکہ آپ کے مزاج بگڑے ہوئے ہیں اس لئے بچوں کے بگڑے ہیں اور بچوں کے جلدی سنبھلیں گے، آپ کی نسبت زیادہ جلدی اصلاح پذیر ہوتے ہیں۔چنانچہ اکثر اگر سو فیصد نہیں تو اکثر صورتوں میں ماں باپ یہ بتاتے ہیں کہ ہمارے بچوں نے تو مصیبت ڈالی ہوئی ہے اور کوئی ٹیلی ویژن دیکھنے ہی نہیں دیتے۔ایک ماں ڈیڑھ سال کا بچہ لے کر آئی کہ یہ تو جب بھی ٹیلی ویژن آن ہوتا ہے وہ کہتا ہے کہ وہ ٹیلی ویژن دکھاؤ۔بول بھی نہیں سکتا، اشارہ کرتا ہے میری طرف کہ جس میں وہ آتا ہے اور دوسرا ٹیلی ویژن دیکھیں تو رونے لگ جاتا ہے۔تو خدا تعالیٰ نے بچے پکڑ لئے ہیں اب اللہ کے فضل سے جماعت کے۔تو اگر آپ کو وہم ہے کہ آپ ان کی تربیت کریں گے۔اب بچے آپ کی تربیت کریں گے۔مگر یہ باتیں جو ہیں یہ درست نہیں ہیں کہ یہ چھوٹی چیزیں ہیں۔ہم اعلیٰ درجہ کے ملک کے اعلی ٹیلی ویژن دیکھنے والے لوگ ہیں ، ہمارے جیسے دکھاؤ۔تو میں نے کہا کہ پھر تم اپنے پروگرام بناؤ اور اپنا ٹیلی ویژن بھی بنالو ساتھ ہی۔ایسے پروگرام بناؤ گے جوسب کی اصلاح کے لئے ہوں اور سچائی پر مبنی ہوں ان میں لغو اور جھوٹی باتیں اور جھوٹے انداز نہ ہوں تو پھر ہمیں دو ہم بنابنا کر تمہیں بھی دکھا ئیں گے، دنیا کو بھی دکھا ئیں گے لیکن بگڑے ہوئے ذوق کی ہم متابعت کبھی کسی صورت میں نہیں کر سکتے۔پس یہ ساری وہ باتیں ہیں جن کا اس آیت کریمہ میں اشارہ ذکر ہے مگر واضح اشارے ہیں۔جب آپ کریدتے ہیں تو صاف دکھائی دینے لگتے ہیں۔وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُم