خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 881
خطبات طاہر جلد 15 881 خطبہ جمعہ 15 رنومبر 1996ء بلاتے تو تم ہو مگر وہ لبیک کہے گا خدا کی آواز پر اور رسول کی آواز پر نہ کہ تمہاری آواز پر۔تو داعی الی اللہ کا یہ غرور بھی تو ڑ دیا کہ ہم نے بلایا تھا اس لئے وہ احمدی ہو گیا، ہم نے دعوت دی تھی اس لئے اس نے حق کو قبول کیا۔اسْتَجَابُو اللَّهِ وَالرَّسُولِ (آل عمران : 173) وہ استجابت کرتے ہیں یا کی تو اللہ اور رسول کے لئے کی کیونکہ رسول خدا کی صفات کا مظہر بنا ہوا تھا۔تو اس لئے دعوت الی اللہ والے کے لئے ان آیات میں بہت ہی عظیم حکمتوں کے سمندر موجزن ہیں۔اگر آپ ان کی تہہ میں اتر کر دیکھیں تو پتا چلے گا کہ حکمتوں کے سمندر ہیں جو قرآن کریم کی چھوٹی چھوٹی آیات میں جو کوزے سے بھی چھوٹی ہیں ان میں آپ کو بھرے ہوئے اور موجیں مارتے ہوئے دکھائی دینے لگیں گے۔تو پہلی بات تو یہ یاد رکھیں کہ آپ نے حسن کی تلاش کرنی ہے اور حسن ہر انسان میں موجود ہوتا ہے لیکن بعضوں میں زیادہ بعضوں میں کم۔تو حسن کا متلاشی پہلے تو زیادہ حسن کی طرف جایا کرتا ہے نہ کہ کم حسن کی طرف، کم حسن کی طرف تو تب جاتا ہے جب زیادہ حسن ملے نہ۔اگر سونے کی ڈلیاں ریت پر بکھری پڑی ہوں تو ریت کے اندر جو ریت کے ذروں کی طرح سونا ملا ہوا ہوتا ہے اس کے کھوج میں وہ وقت ضائع نہیں کرے گا پہلے وہ ڈلیوں کو چنے گا جب ڈلیاں ختم ہو جا ئیں پھر ریت کی باری آتی ہے پھر ان باریک ذروں کی تلاش ہوتی ہے پھر اس کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے گڑھے کھود نے پڑتے ہیں۔ان میں پانی ڈال کر یا نہروں کے پانی کا رخ اس طرف پھیر کر ان میں وہ ریت کو ڈالتے اور بار بار کھنگالتے ہیں یہاں تک کہ سونا الگ اور ریت الگ ہو جائے ، محنت پھر بھی وہ کرتا ہے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ چونکہ تھوڑا اسونا ہے نسبتا زیادہ محنت کرنی پڑے گی اس لئے چھوڑ ہی دو۔تو آپ نے چھوڑنا تو ہے نہیں، آپ کو چھوڑنے کا حکم ہی نہیں ہے۔حکم یہ ہے کہ حسن کی تلاش کرو ایسا حسن جس پر اللہ کی نظر پڑنے لگے اور اس مضمون کے لئے اگلی آیت اس مضمون کو جیسا کہ مزید بڑھائے گی، اس مضمون کے لئے نہیں اس مضمون کو سمجھنے کے لئے اگلی آیت یا اس آیت کا اگلا ٹکڑا ہے وہ اس کو خوب روشن کر دے گا جب ہم وہاں تک پہنچیں گے، لیکن نصیحت کے طور پر میں آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ پہلے خدا کے اچھے صاف ستھرے بندوں کی تلاش کریں وہاں سے دعوت الی اللہ شروع کریں تھوڑے وقت میں آپ کو زیادہ پھل ملے گا اور ایسے سعید فطرت بھی بندے ہوتے ہیں جن کو اگر آپ نہ بھی کہیں تو اللہ ویسے ہی بلا لاتا ہے چنانچہ وحی کے ذریعے، کشوف کے ذریعے، الہامات کے ذریعے، ایسے واقعات کے نتیجے میں جو بظاہر اتفاقات ہوتے ہیں مگر