خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 862
خطبات طاہر جلد 15 862 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء ایک روحانی بینک کھلا ہے تم اس میں قرضہ حسنہ دے کے دیکھو تم سے کیا ہوتا ہے۔جتنا دو گے اس سے بہت زیادہ بڑھا کر ہم تمہیں واپس کر دیں گے اور پھر ہم کہیں گے ابھی اجر باقی ہے اور اجر بھی وہ باقی ہے جو کریم ہے۔یہ جو نظام ہے اس کا تجربہ کرنے والوں نے ہمیشہ توقع سے بھی بڑھ کر کارفرما دیکھا ہے کبھی بھی اس میں غلطی نہیں ہوئی جو خدا کی خاطر اپنے روپیہ کی غلط سرمایہ کاری نہیں کرتے اس سے بچ جاتے ہیں ان کے روپے میں اللہ تعالیٰ غیر معمولی برکتیں عطا فرماتا ہے۔اور دوسرا جو اس کے علاوہ خدائی نظام کو قرض دیتے ہیں ان کی تو نسبتیں ہی بدل جاتی ہیں ان کی کیفیات میں انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔اتنی برکتیں ملتی ہیں کہ اس کا عام انسان جس کو تجربہ نہ ہو تصور بھی نہیں کر سکتا۔جماعت کی مالی قربانی کے نتیجے میں خدا تعالیٰ نے ساری جماعت پر جو فضل نازل فرمائے ہیں وہ حیرت انگیز ہیں اور بڑھتا ہوا مالی قربانی کا رجحان بتا رہا ہے کہ خدا نے دیا تھا تو واپس کر رہا ہے پہلے تھوڑا قرض دیا تھا پھر اس سے زیادہ ، پھر اس سے زیادہ بڑھتے بڑھتے کہیں سے کہیں بات جا پہنچتی ہے۔آج ایک مجلس سوال و جواب میں شمار صاحب آپ کے فنانس سیکرٹری جو UK کے بڑی دیر سے فنانس سیکرٹری ہیں ماشاء اللہ ، ان سے میں نے پوچھا کہ آپ کا کیا تجربہ ہے آپ نے کب چارج لیا تھا۔انہوں نے کہا میں نے 1980ء میں لیا تھا۔میں نے کہا اس وقت جماعت کی مالی توفیق کیا تھی اور کتنا چندہ تھا تو انہوں نے کہا سارے چندے ملالیں طوعی، غیر طوعی تحریک جدید، دوسرے وصیت تو ایک لاکھ سے زیادہ بجٹ نہیں تھا اس سال۔اب عام بجٹ جو ہے وہ بڑھ کے بارہ لاکھ تک جا پہنچا ہے اور اس کے علاوہ طوعی چندے ہیں ایسے جو شمار کر لیں تو بات کہیں سے کہیں جا پہنچتی ہے۔جو سال گزرا ہے اس میں جماعت نے جو مسجد کے لئے قربانی دی ہے اور دیگر طوعی چندوں میں حصہ لیا ہے جماعت UK نے اس کا ٹوٹل (Sum) تین ملین کے قریب جا پہنچتا ہے۔تو کہاں وہ ایک لاکھ اور ابھی 1980ء سے لے کر سولہ سال گزرے ہیں تو سولہ سال میں قربانی بڑھتے بڑھتے تین ملین تک خدا تعالیٰ نے توفیق بخش دی ہے اور جماعت کی آمد میں کمی نہیں ہوئی بلکہ بڑھ رہی ہے۔نئی نسلوں سے خدا کا حیرت انگیز سلوک ہے۔عجیب و غریب کا روبار ہیں اور لڑکے آکے، جب نو جوان مجھے باتیں بتاتے ہیں تو ہنستے ہیں کہ یہ ہوا کیسے؟ کہتے ہیں ہمیں تو سمجھ نہیں آتی کیا بات تھی۔ایک نو جوان ملنے کے لئے