خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 861 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 861

خطبات طاہر جلد 15 861 خطبہ جمعہ 8 نومبر 1996ء تھے اس کی بسا اوقات سوائے اتفاقی حادثات کے وہ مکان آپ کے ہاتھ سے آگے جا چکا ہوگا۔جو کچھ آپ مصنوعات یا پیداوار کی صورت میں چیزیں خرید سکتے تھے چھ سال پہلے، چھ سال کے بعد دولاکھ میں وہ نہیں خرید سکیں گے اور انفلیشن (Inflation) کا جو ریٹ ہے جو اس کی رفتار ہے وہ سود کی بڑھتی ہوئی آمد سے ہمیشہ تیز ہوتی ہے کیونکہ یہ جمع ہوتی چلی جاتی ہے۔سود کی رفتار تو فکسڈ ہے یعنی اگر دس فیصدی آپ کو ملے گا، وہ تو دس فیصدی ملتا نہیں۔یہ دگنا ہونے کی بات بھی زیادہ سے زیادہ ہے جو میں بیان کر رہا ہوں عملاً دینے کے ہاتھ اور ہیں اور لینے کے ہاتھ اور ہیں اور اگر بڑھ بھی جائے تو نفلیشن (Inflation ) اکثر اوقات سوائے بعض اقتصادی حادثات کے وہ میں بحث نہیں چھیڑ رہا اس وقت اس کا تفصیلی جائزہ لینے کے باوجود بھی یہ بات ثابت کی جاسکتی ہے۔مگر یہ یاد رکھیں کہ سود سے جتنا روپیہ آپ کا بڑھتا ہے طبعی ذرائع سے جو روپے کی قیمت کم ہورہی ہے وہ بڑھوتی کو کم کر کے نیچے اتارے گی ، آگے نہیں بڑھا سکتی۔اس لئے وہ لوگ جو احمدی مجھ سے پوچھتے ہیں میں ان کو Real Estate کا جب مشورہ دیتا ہوں تو امر واقعہ یہ ہے کہ Real Estate اگر گر بھی جائے یعنی جائیداد، تو اس عرصے میں کچھ نہ کچھ وہ دے رہی ہوتی ہے اور وہ کل جو آمد ہے وہ سود سے بہر حال زیادہ ہے۔مگر قرآن کریم نے جو نظریہ پیش فرمایا ہے وہ اور ہے۔ہر بچانے والے کا روپیہ اس قابل ہوتا ہی نہیں کہ تجارت میں لگایا جاسکے۔سرمایہ کاری کے لئے کچھ بنیاد تو ہونی چاہئے اور کچھ عقل بھی ہونی چاہئے۔تو اللہ تعالیٰ نے وہ مشورہ نہیں دیا جو خطرات سے خالی نہیں ہے۔بظاہر ایک منافع سے رو کا جو منافع تھا ہی نہیں حکم وہ دیا ہے جو آپ سمجھتے ہیں ہمارے مقصد کے خلاف ہے حالانکہ آپ کے مقصد کی حفاظت کے لئے دیا گیا ہے لیکن اپنے زعم میں آپ سمجھتے ہیں او ہواگر ہم روپیہ لگا دیتے ناسود پر، بینک میں رکھتے تو اب تک پتا نہیں کتنا ہو جانا تھا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بے وقوفی نہ کرو، ہم تمہیں اس سے بہتر ایک قرض کا نظام دکھاتے ہیں، ہمیں قرض دے دیا کرو۔اب یہاں جب آپ پہنچ کر قرض کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو کتنا خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔وہ جس نے قرض سے روکا تھا ایک غلط قرض سے روکا تھا اس نے اپنے ذمہ قرض وصول کرنا لے لیا اور فرمایا ہمیں کیوں نہیں دے دیتے قرضہ حسنہ تم سمجھتے ہو قرضہ حسنہ نقصان کا سودا ہے اور واقعہ دنیا کے کاروبار میں جہاں سودی نظام ہو وہاں نقصان ہی دکھائی دے رہا ہے۔فرمایا ہمارا بھی تو