خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 858 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 858

خطبات طاہر جلد 15 858 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء کی ساری قوم ہی گندی ہوگئی اور باتیں سچی ہیں اور کھلم کھلا کی بھی گئی ہیں لیکن قول سدید نہیں ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے وہ گناہ اور کمزوریاں جو تم سے قول سدید اختیار کرنے سے پہلے سرزد ہو چکی ہیں اللہ ان پر پردے ڈالے گا۔يَغْفِر کا مطلب یہ ہے کسی چیز کو ڈھانپ دینا۔اس میں دو طرح سے پردے ہیں۔اپنی ناراضگی سے پردے میں لے آئے گا اپنی ناراضگی کو ان تک نہیں پہنچنے دے گا اور لوگوں کی نظر اور ان کی تنقید سے پردہ ڈال دے گا۔تو چھوٹی سی آیت میں ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت کھاتے ہوئے کتنے معافی کے کتنے سمندر بیان ہو گئے ہیں۔تصلح لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ جو اس رستے پر چل پڑے گا، جو حضرت صلى الله محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں یہ تربیت کا اصول جان لے گا اور اس پر عمل پیرا ہوگا قول سدید کا عادی ہو خدا اس کے اعمال کی اصلاح شروع کر دے گا اس کی کمزوریوں پر پردے ڈھانپ دے اور پھر ان سے بخشش کا سلوک فرمائے یہ دونوں مضمون ہیں يَغْفِرُ میں۔پھر اس کے بعد کیا ہوگا ، فرمایا وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا یہ سفر کی انتہا نہیں ہے جو بیان ہورہی الله ہے۔یہ تو سفر کا آغاز ہے جو بتایا جا رہا ہے اس کے بعد تم اس لائق ہو گے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی الله پیروی کرو اور جو کوئی پھر اللہ اور اس رسول حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرے گا۔فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا اسے عظیم کامیابیاں نصیب ہوں گی اور یہ سارا مضمون اس پہلی آیت سے مربوط ہے جس میں فرمایا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ قرآن ہے تو شک سے بالا لیکن متقیوں کے لئے ہدایت ہے یہاں انہی متقیوں کی تعریف فرمائی گئی ہے۔قَوْلًا سَدِيدًا کہنے والے، سچی بات کو سچے انداز سے پیش کرنے والے جب وہ یہ کر گزریں گے تو پھر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ہدایت کے سکول میں داخل ہوں گے جس کی کامیابیاں لامتناہی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ ہمیں اس مضمون کو صرف سمجھنے کی نہیں بلکہ اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین