خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 857
خطبات طاہر جلد 15 857 خطبہ جمعہ یکم نومبر 1996ء وہ جرائم جن کی میں بات کر رہا ہوں جو شاذ کے طور پر رونما ہوتے اور اکثر انسان ان کے اوپر سے خود پردے اٹھاتے بھی نہیں ہیں لیکن اپنے اندر سے جو پردے اٹھاتے ہیں وہ ان چیزوں سے اٹھاتے ہیں جو ان کے اندر ہیں نہیں اور جو کمزوریاں ہیں ان پر جان کر پر دے ڈالتے ہیں اور چھپاتے ہیں اور اس وقت بھی چھپاتے ہیں جب تحقیقات کا موقع ہو اور لازم ہے کہ وہ ظاہر کریں اور پھر جو اچھی باتیں اور نیک باتیں ان کے علم میں آئیں ان کو وہ برمحل قول سدید کے مطابق جن تک پہنچانی چاہئیں ان تک نہیں پہنچاتے اور قول سدید کے خلاف یہ عمل کرتے ہیں کہ جہاں نہیں پہنچانی چاہئیں وہاں وہ پہنچاتے ہیں اس سے لذت حاصل کرتے ہیں۔جتنا بھی سوسائٹیوں میں پرو پیگنڈا کیا جاتا ہے اور کسی شخص کے متعلق ایک طرف سے بات سن کر دوسرے کو بیان کرنا کہ اس میں تو یہ بھی کمزوری ہے، یہ بھی کمزوری ہے ، وہاں باتیں کرنا جہاں ان کا تعلق ہی کوئی نہیں اور جہاں ضروری تھیں پہنچانی وہاں نہیں پہنچاتے ، اس کے نتیجے میں اصلاح ممکن ہی نہیں رہتی۔ایسی سوسائٹیاں جہاں ایسے اڈے بن جائیں کبھی بھی ان کی اصلاح نہیں ہو سکتی اور ہمیشہ بد سے بدتر ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن اگر آپ کے علم میں ایسی بات آئی ہے جو نظام جماعت کی کمزوری ہے یعنی نظام جماعت میں وہ کمزوری نہیں ہونی چاہئے لیکن نظام جماعت چلانے والوں نے پیدا کر دی ہے قول سدید کا تقاضا یہ ہے کہ آپ نظام جماعت کے ان بالا افسروں تک اس بات کو پہنچا ئیں جنہوں نے اصلاح کرنی ہے۔تو دیکھیں کیسی صاف بات ہے قول سديد كرو - يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ قول سدید کا مطلب ہے صاف بات اور صحیح آدمیوں تک پہنچانا، بے محل بات نہ کرنا اور یہ چھوٹی سی نصیحت اتنے وسیع دائرے میں انسانی اعمال پر اثر انداز ہے کہ آپ اگر اس پر غور کریں تو حیرت سے اس سمندر میں ڈوب جائیں گے چھوٹا سا کلمہ کتنا عظیم ہے اور اس کے بعد فرمایا: تُصلِحُ لَكُمُ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ کچھ ذنوب بھی تو ہیں ان کو ظاہر کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے تمہیں نہیں حکم دیا جو تمہارے اندرونی گناہ ہیں۔خدا یہ تو نہیں کہہ رہا کہ ان کو کھولتے رہو اور دنیا میں اچھالتے رہو اس سے تو اصلاح کے برعکس مضمون پیدا ہوگا ایسی سوسائٹیاں جہاں گناہ کی کھلم کھلا باتیں ہوتی ہوں وہاں بے حیائی بڑھتی ہے اصلاح کبھی نہیں ہوتی جن کی ٹیلی ویژن گندی ہوگئی ان